Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
368 - 831
فاروقِ اعظم اہل جنت کے آفتاب :
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’عُمَرُ سِرَاجُ اَھْلِ الْجَنَّۃِیعنی عمر فاروق اہل جنت کے لیے آفتاب ہیں  ۔‘‘(1)
مولاعلی مشکل کشا کی تصدیق:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ ’’عمر بن خطاب اہل جنت کا آفتاب ہیں  ۔‘‘ جب یہ بات امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو معلوم ہوئی تو وہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ایک قافلےکے ساتھ حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا: ’’آپ نے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے سناہے کہعُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ سِرَاجُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ یعنی عمر بن خطاب آفتاب ِ اہل جنت ہیں  ؟‘‘ انہوں   نے کہا:’’جی ہاں  ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اُکْتُبْ لِیْ خَطَّکَ یعنی آپ اپنے ہاتھ سے مجھے یہ لکھ دیں  ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے تحریر لکھ دی:’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم هٰذَا مَا ضَمِنَ عَلِيُّ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيْلَ عَنِ اللہِ تَعَالٰى اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سِرَاجُ اَهْلِ الْجَنَّةِیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحم والا،یہ وہ تحریر ہے جسے علی بن ابی طا لب (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے روایت کرکے لکھا ہےاور حضور نبی ٔپاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے سنا اور انہوں   نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے یہ فرمان عالیشان سنا کہ عمر بن خطاب اہل جنت کا آفتاب ہیں  ۔‘‘
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ تحریر لے کر اپنی اولاد کو دے دی اور انہیں  وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اِذًا اَنَا مُتُّ وَغَسَلْتُمُوْنِيْ وَكَفَّنْتُمُوْنِيْ فَادْرَجُوْا هٰذِهٖ مَعِيَ فِيْ كَفْنِيْ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… تاریخ ابن عساکر،ج۴۴،ص۱۶۶۔