Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
367 - 831
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایسے ہی تکیہ لگائے تشریف فرما تھے۔ حضورسرورِکونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے وہ تکیہ مجھے عطا فرمایا اورارشاد فرمایا: ’’مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلٰى اَخِيْهِ الْمُسْلِمِ فَيُلْقِي لَهُ وِسَادَةً اِكْرَامًا لَهُ اِلَّا غَفَرَ اللہُ لَهُیعنی کوئی بھی مسلمان اپنے بھائی کے پاس جائے اوروہ اس کی تکریم کرتے ہوئے اپنا تکیہ اُسے دے دے تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی مغفرت فرمادیتاہے ۔‘‘(1)
بارگاہِ رسالت سے جنت کی بشارت:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے ، کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نےارشاد فرمایا: ’’عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ اَهْلِ اْلَجَنَّةِ یعنی عمر بن خطاب جنتی ہیں  ۔‘‘(2)
ابھی ایک جنتی شخص آئے گا:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا: ’’يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَاطَّلَعَ عُمَرُیعنی ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا۔تو حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے۔‘‘(3)
جنت میں   پیارے آقا کی معیت:
حضرت سیِّدُنا زید بن ابی اوفی سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا: ’’ اَنْتَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِیعنی اے عمر!تم جنت میں   میرے ساتھ تین میں  سے تیسرے نمبر پر ہوں   گے۔‘‘ (یعنی دائیں   طرف سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، درمیان میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور بائیں   طرف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مستدرک  حاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب تکریم المسلم ۔۔۔الخ، ج۴، ص۷۸۳، حدیث:۶۶۰۱۔
2…صحیح ابن حبان ، کتاب اخبارہ عن۔۔۔الخ،مناقب الصحابۃ ،ذکر اثبات الجنۃ لعمر،الجزء:۹، ج۶، ص۱۸، حدیث:۶۸۴۵۔
3…ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۸۸، حدیث:۳۷۱۴۔
4…تاریخ ابن عساکر ،ج۴۴،ص۱۶۵۔