قیامت والو! فاروقِ اعظم کو پہچان لو:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ روزِ قیامت ندا آئے گی: ’’ اَیْنَ الْفَارُوْقْ یعنی فاروق کہاں ہیں ؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو پیش کیا جائے گا۔پھر کہا جائےگا: ’’مَرْحَباً بِكَ يَا اَبَا حَفْصٍ هٰذَا كِتَابُكَ اِنْ شِئْتَ فَاقْرَاْهُ وَاِنْ شِئْتَ فَلَا فَقَدْ غُفِرْتَ لَكَیعنی اے ابو حفص! یہ تمہارا اعمال نامہ ہے، چاہو تو پڑھو، چاہو تو رہنے دو میں نے تمہیں بخش دیا گیا ہے۔‘‘ اسلام کہے گا :’’يَا رَبِّ هٰذَا عُمَرُ اَعَزَّنِيْ فِيْ دَارِ الدُّنْيَا فَاَعِزْهُ فِيْ عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِیعنی یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ عمر ہیں ، جنہوں نے دنیا میں مجھے معزز کیا، تو انہیں قیامت کے میدان میں معزز فرما۔‘‘ اس کے ساتھ ہی آپ کو ایک نورانی اُونٹنی پر بٹھا یاجائے گا، اور دوایسے جبے پہنادیئے جائیں گے کہ اگر ان میں سے ایک بھی دنیا میں کھول دیاجائے تو اس کی مہک سے سارا جہان معطر ہوجائے ،آپ کی سواری کے آگے ستر ہزار جھنڈے لہراتے چلے جارہے ہوں گے۔ پھر آواز آئے گی :’’يٰاَهْلَ الْمَوْقَفِ هٰذَا عُمَرُ فَاعْرِفُوْهُ یعنی یہ عمر ہیں ۔ قیامت والو! انہیں پہچان لو۔‘‘(1)
بارگاہِ رسالت سے عطاکردہ بشارتیں
فاروقِ اعظم کے لیے بارگاہِ نبوی سے مغفرت کی بشارت:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تکیہ لگائے تشریف فرماتھے۔آپ نے وہ تکیہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دے دیاتوسیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’صَدَقَ اللہُ وَ رَسُوْلُهُ یعنی رَبُّ الْعَالَمِیْن اور رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سچ فرمایا۔‘‘امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’اے ابو عبداللہ ! ہمیں بھی بتاؤ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیا فرمایا۔‘‘حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’میں سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا توآپ صَلَّی اللّٰہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۱۸۔