فاروقِ اعظم کی اُخروی شان
سب سے پہلے نامۂ اعمال فاروقِ اعظم کو دیا جائے گا:
حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ میں نے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سناکہ روزِ قیامت سب لوگ جمع ہوں گے۔ عمر بن خطاب ایک جگہ کھڑے ہوں گے، ان کے پاس کوئی چیز آئے گی جو ان کی ہم شکل ہوگی اور کہے گی:’’ اے عمر ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو میری طرف سے بہتر جزا عطا فرمائے۔‘‘ وہ پوچھیں گے:’’ تم کون ہو؟‘‘ وہ کہے گی:’’ میں اسلام ہوں ۔ اے عمر! اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو بہتر جزا دے۔‘‘ اس کے بعد ندا آئے گی:’’ خبردار ! عمربن خطاب سے پہلے کسی کو نامۂ اعمال نہ دیا جائے، چنانچہ آپ کو سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال دے کر جنت کی طرف روانہ کردیا جائے گا۔‘‘ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان جنت نشان سن کرامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبہت روئے اور اپنے سارےغلام آزاد کردیئے۔‘‘(1)
سب سے پہلے حق عمر کو سلام کرے گا:
حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کل بروز قیامت سب سے پہلے حق عمر فاروق کو سلام کرے گااور ان سے مصافحہ کرے گا اور ب سے پہلے ان ہی کا ہاتھ پکڑ کر ان کو جنت میں داخل کردے گا۔‘‘(2)
حق سے مراد یاتو وہ فرشتہ ہے جس کے ذریعے صواب یعنی درست بات کا الہام کیا جاتا ہے یا وہ حق مراد ہے جو باطل کی ضد ہوتاہے۔ حق کا سلام ومصافحہ کرنا ان کے لیے مشورہ وغیرہ میں ظاہر ہونے سے کنایہ ہے یا یہ مراد ہے کہ کل بروز قیامت اس کو جسم دے دیا جائے گا اور وہ ہاتھ پکڑ کر آپ کو جنت میں لے جائے گا۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۰۷۔
2…ابن ماجہ، کتاب السنۃ، فضل عمر، ج۱، ص۷۶، حدیث:۱۰۴۔
3…حاشیہ سندھی علی ابن ماجہ، کتاب السنۃ، فضل عمر، ج۱، ص۷۶، تحت الحدیث:۱۰۴ ملخصا۔