Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
363 - 831
 اگر دروازۂ نبوت بند نہ ہوتا تو محض فضل الٰہی سے وہ نبی ہوسکتے تھے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے نبوت کا کوئی مستحق نہیں  ۔‘‘ (1) 
رسول اللہ کا فاروقِ اعظم سے دُعا کے لیے فرمانا:
 	حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں   کہ میرے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سےعمرہ پر جانے کی اجازت چاہی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ اے میرے بھائی اپنی دعا میں   ہمیں   نہ بھول جانا۔‘‘ بعض روایات میں   یوں   بھی آیا ہے کہ اے میرے بھائی! ’’اپنی دعا میں   ہمیں   بھی شامل رکھنا۔‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   :’’جہاں   کی تمام تر نعمتوں   سے بڑھ کر میرے لیے یہ بڑی نعمت ہے کہ آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا:’’ اے میرے بھائی ۔‘‘(2)
دعاکے لیے فاروقِ اعظم کے پاس بھیجا:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور میں   قحط پڑا تو ایک شخص خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی قبر منور پر آیا اور عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے امت کے لیے بارش مانگیں  ، لوگ ہلاک ہوئے جاتے ہیں  ۔‘‘ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس کے خواب میں   تشریف لائے اورارشاد فرمایا: ’’ تم عمر فاروقِ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کے پاس جائو اور کہو کہ لوگوں   کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بارش طلب کریں  ، یقیناً بادل برسے گا اور عمر سے یہ بھی کہوکہ دُور اندیشی سے کام لیں  ۔‘‘ ا س شخص نے بارگاہِ فاروقی میں   حاضر ہو کر سارا خواب بیان کردیا۔خواب سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبہت روئے اور فرمایا: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مَیں   نے عذر کے بغیر تیرے احکام کی بجا آوری میں   کبھی کمی نہیں   چھوڑی ۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… فتاویٰ رضویہ، ج۲۹، ص۳۷۳۔
2…ترمذی ،کتاب الدعوات ، باب من ابواب الدعوات، ج۵،  ص۳۲۹، حدیث:۳۵۷۳۔
	مسند امام احمد،مسند عمر بن  الخطاب ، ج۱، ص۷۰، حدیث:۱۹۵۔
3…مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب الفضائل ،ماذکر فی فضل عمر، ج۷، ص۴۸۲، حدیث:۳۵، الاستیعاب ، عمر بن الخطاب، ج۳، ص۲۳۸۔