تمام صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔(1)
صدیق، اولیں ہیں خلافت کے تاجدار
بعد ان کے عمر وعثمان وحیدر ہیں بالیقین
اللہ اللہ ان کی عظمت اور شانِ سربلند
انبیاء کے بعد ان کا کوئی بھی ہمسر نہیں
فاروقِ اعظم بعد صدیق اکبر سب سے افضل:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :’’ہم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ مبارکہ میں سب سے افضل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شمار کرتےان کے بعدحضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اور ان کے بعد حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو۔‘‘(2)
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرت کے ضمن میں کئی فضائل بیان ہوچکے ہیں ۔اب وہ فضائل بیان کیے جاتے ہیں جو کسی باب کے ضمن میں بیان نہیں کیے گئے۔
فضائلِ فاروقِ اعظم بزبان سرورِدوعالم
اگر میرے بعدکوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے:
حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’ لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیًّا لَکَانَ عُمَریعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔‘‘ (3)
اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت پروانہ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیث مبارکہ کو ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں : ’’آپ (سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی فطرت اتنی کاملہ تھی کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…منح الروض الازھر، ص۳۴۴ ملتقطا، بہارشریعت، ج۱، حصہ۱، ص۲۴۱۔
2…بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی، باب فضل ابی بکر بعد النبی، ج۲، ص۵۱۸، حدیث:۳۶۵۵۔
3…ترمذی ،کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۸۵، حدیث:۳۸۰۶۔