عشق ومحبت کا دوسرا رخ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب تک آپ نے جتنے بھی اقوال وواقعات ملاحظہ کیے وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عشق ومحبت سے متعلق تھے، اب آپ وہ احادیث مبارکہ وواقعات ملاحظہ کیجئے جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت والفت سے متعلق ہیں ۔
احادیثِ فضائلِ فاروقِ اعظم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بے شمار فضائل ومناقب احادیث مبارکہ میں بیان ہوئے ہیں ۔اور سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام تو بارگاہِ رسالت میں یہ عرض کرتے ہیں : ’’لَوْ جَلَسْتُ مَعَكَ مِثْلَ مَا جَلَسَ نُوْحٌ فِيْ قَوْمِه مَا بَلَغْتُ فَضَائِلَ عُمَر وَلَيَبْكِيَنَّ الْاِسْلَامُ بَعْدَ مَوْتِكَ يَا مُحَمَّدُ عَلٰى عُمَر یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھ کر اتناعرصہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فضائل بیان کروں جتنا حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم میں (تبلیغ کے لیے)ٹھہرے رہے(یعنی نو سوپچاس سال) تب بھی حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فضائل بیان نہ کرسکوں اور یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اسلام آپ کے وصال ظاہری کے بعد حضرت عمر کی وفات پر ضرور روئے گا۔‘‘ (1)
بعد صدیق اکبرسب سے افضل
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیاءورسل بشر و رسل ملائکہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد سب سے افضل حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ، ان کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق،ان کے بعدحضرت سیِّدُنا عثمان غنی ، ان کے بعد حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا،ان کے بعد عَشَرَۂ مُبَشَّرہکے بقیہ صحابۂ کرام، ان کے بعد باقی اہل بدر، ان کے بعد باقی اہل اُحد، ان کے بعد باقی اہل بیعت رضوان، پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اللالی المصنوعۃ، ج۱، ص۲۷۸، لسان المیزان، حرف الحاء من اسمہ الحبیب، ج۲، ص۳۰۸، الرقم: ۲۲۹۱۔