وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دوڑ کر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچ گئے۔کیا دیکھتے ہیں سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک چھپر کے نیچے بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہیں ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پیچھے ہٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سجدے سے سر اٹھایا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! تم نے بہت اچھا کیا مجھ کو سجدے میں دیکھ کر تم ایک طرف ہوگئے۔ ابھی جبریل امین میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک بار درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس بار درود بھیجتا ہے۔‘‘(1)
دنیا ومافیہاسے محبوب:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ہشام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ہم سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پاس بیٹھے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ اِلَّا مِنْ نَفْسِيیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى اَكُونَ اَحَبَّ اِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَنہیں عمر اس رب عَزَّ وَجَلَّکی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!(تمہاری محبت اس وقت تک کامل نہیں ہو گی)جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔‘‘سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’وَاللّٰهِ لَاَنْتَ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ نَفْسِيیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! خدا کی قسم! آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔ ‘‘یہ سن کر نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’الْآنَ يَا عُمَرُیعنی اے عمر! اب(تمہاری محبت کامل ہوگئی۔) (2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم اوسط، بقیۃ ذکرمن اسمہ محمد، ج۵، ص۶۸، حدیث:۶۶۰۲۔
2…بخاری ،کتاب الایمان والنذور،باب کیف کانت یمین النبی ،ج۴، ص۲۸۳، حدیث:۶۶۳۲۔