بچوں کو اپنے قریب کرکے اپنے ہاتھوں سے کھلانا شروع کردیا، یہاں تک کہ سب بچوں نے پیٹ بھر کر کھالیا اور خوش ہو گئے۔ پھر اس نے بچوں کی دلجوئی کے لیے ان کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا، بچوں کی خوشی میں مزید اضافہ ہوگیا اوروہ کھیلتے کھیلتے سوگئے۔ آقا بقیہ کھانا خاتون کے پاس چھوڑ کر اپنے خادم اسلم کے پاس آکر اس طرح بیٹھ گیاگویا اسے قلبی سکون مل گیا ہو اور اس کے کندھے سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔
وہ خاتون اس کی طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی:’’ تم اتنے شفیق اور رحم دل ہو، اس مصیبت کی گھڑی میں تم نے ہماری مدد کی، میرے روتے ہوئے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ کے موتی بکھیرے، میں کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں ؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی تمہیں اس کی بہتر جزا عطا فرمائے گا۔حقیقت تو یہ ہے کہ تم ہی امیر المؤمنین بننے کے حق دار ہو۔‘‘اسلم دیکھ رہا تھا کہ اب اس خاتون کے لہجے میں واضح تبدیلی آچکی تھی، اور وہ دل سے بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔
اس آقا کی جگہ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو وہ اپنی اس تعریف پر پھولا نہ سماتا اور لوگوں میں جاکر سینہ چوڑا کرکے اپنے اس کارنامے کو بیان کرتا لیکن اس آقانے تو اِن تعریفی کلمات پر بالکل توجہ نہ دی بلکہ کہنے لگا: ’’اے بی بی! جیسا تم کہہ رہی ہو ویسا بالکل نہیں ، میں اور امیر المؤمنین بننے کا حقدار!یہ تو بڑی عجیب بات ہے ، ہاں ایک بات ضرور ہے اگر تم کبھی امیر المؤمنین کے دربار میں آؤ گی تو مجھے وہاں ضرور دیکھو گی۔‘‘
پھرآقا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے اٹھا اور اپنے خادم اسلم کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا:’’ اے اسلم! بھوک نے ان ننھے بچوں کو جگا رکھا تھا اوربھوک ہی انہیں مسلسل رلارہی تھی۔جب میں نے ان کی یہ حالت دیکھی تو مجھے اپنے بچے یاد آگئے اور میں نے اپنے دل میں تہیہ کرلیا کہ جب تک ان بچوں کی بھوک کو شکم سیری ، رونے کو ہنسنے اور اُن کے غم کو خوشی ومسرت میں تبدیل نہ کردوں تب تک چین سے نہ بیٹھوں گا اور نہ ہی واپس اپنے گھر جاؤں گا۔اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ہے کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔‘‘بہرحال آقا اور خادم دونوں مدینہ منورہ کی مبارک گلیوں سے ہوتے ہوئے واپس اپنے گھر آگئے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، الجزء:۱۲، ج۶، ص۲۸۹، حدیث:۳۵۹۷۳۔
الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۴۵۳، فتاویٰ رضویہ، ج۲۲، ص۳۸۹ ملخصاًومفھوماً۔