رسول اللہ کی بارگاہ کا ادب واحترام
سرکار کی بارگاہ میں آواز بلند نہ کرتے :
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: (ٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ) (پ۲۶، الحجرات:۲)ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔‘‘اس آیت کے نازل ہونے پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کلام کرتے تو اتنی دھیمی آواز سے بات کرتے کہ آپ کی آواز سنائی نہ دیتی تھی اور پوچھنا پڑھتا تھا کہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ تب اللہعَزَّ وَجَلَّنے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: ( اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳)) (پ۲۶، الحجرات:۳ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔‘‘(1)
رسول اللہ کی تعظیم اور ادب واحترام:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک بار میں حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اونٹنی پر شریک سفر تھا۔ بسا اوقات میں حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آگے ہوجاتا تھا تو میرے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے ڈانٹتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’اے عبداللہ ! کسی شخص کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آگے ہو۔‘‘(2)
پیارے آقا کے لیے پانی لے کر پیچھے دوڑ پڑے:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ،کتا ب التفسیر ،سورۃ الحجرات ،ج۳، ص۳۳۱، حدیث:۴۸۴۵ مختصرا۔
2…بخاری ،کتاب الھبۃوفضلھا۔۔۔الخ، من اھدی لہ ھدیۃ۔۔۔الخ،ج۲، ص۱۷۹، حدیث:۲۶۱۰ مختصرا۔