Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
358 - 831
سنت ہے جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گفتگو کے ذریعے دِل جوئی کی۔(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رسول اللہ کی گستاخی پر غیرت فاروقِ اعظم:
`حضرت سیِّدُنا ابو حمید ساعدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ  سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص سے عمدہ کھجوریں   ادھار لیں  ۔ وہ شخص آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اپنے حق کا تقاضا کرنے لگا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’آج تو کچھ میسر نہیں  ، اگر چاہو تو کچھ دن مہلت دو جب بھی کچھ میسر آئے گا ہم تمہارا قرض لوٹا دیں   گے۔‘‘وہ کہنے لگا: ’’ہائے دھوکہ!‘‘یہ سننا تھا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آگئے اور آپ کا رنگ متغیر ہوگیا۔آپ کی یہ کیفیت دیکھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’دَعْنَا يَا عُمَرُ! فَاِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًایعنی اے عمر! چھوڑ دو کیونکہ حق دار کو بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔‘‘پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چند اصحاب کو حضرت سیدتنا خولہ بنت حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس بھیجا تاکہ معلوم کرکے آئیں   کہ ان کے پاس کچھ کھجوریں   وغیرہ ہیں   یا نہیں  ؟ معلوم ہوا کہ ان کے پاس کھجوریں   ہیں  ، پھر ان کھجوروں   سے قرض کی ادائیگی کردی گئی۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقرض لینے والے کے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا کہ ’’کیاتمہارے قرض کی ادائیگی مکمل ہوگئی ہے؟‘‘عرض کی: ’’جی حضور! آپ نے قرض کی ادائیگی کردی ہے اور مجھے تکلیف سے نجات دے دی ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہعَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ بندے وہی ہیں   جو اپنے قرض کی ادائیگی کرنے والے اور تکلیف سے نجات دینے والے ہیں  ۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…عمدۃ القاری،کتاب النکاح، باب موعظۃ الرجل۔۔۔الخ، ج۱۴، ص۱۶۴، تحت الحدیث:۵۱۹۱ ملتقطا۔
2…معجم صغیر ،باب المیم ،من اسمہ محمد ،ج۲، ص۹۸، حدیث:۱۰۴۲۔