٭…علم کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنےاور اہل وعیال کی کفالت کا انتظام بھی کرنا چاہیے جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک دن حصول علم کے لیے جاتے تھے اور ایک دن رزق حلال میں مشغول رہتے۔
٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایک دوسرے کو حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احوال اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیث سے مطلع کرتے رہتے تھے، جیسے اس انصاری صحابی نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مطلع کیا ۔
٭…اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ والد کا اپنی بیٹی کے گھر اس کے شوہر کی اجازت کے بغیر داخل ہونا جائز ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی بیٹی اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر تشریف لے گئے۔
٭…طالب علم کو چاہیے کہ اپنے استاد سے کھڑے ہو کر سوال کرے کہ اسی میں علم اور صاحب علم (یعنی استاد) کی تعظیم وادب ہے۔ جیساکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کھڑے کھڑے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے استفسار فرمایا۔
٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے محبوب آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی میٹھی میٹھی باتیں سننے کے شیدائی تھے اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاموشی ان کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ تھی۔ جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خاموشی کی اس حالت میں دیکھا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رہا نہ گیا۔تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ طرز عمل تھا کہ وہ اپنے رؤف رحیم، رحمۃ اللعالمین آقا کی رحمت ہی کو طلب کرتے ہیں اور پیاری پیاری مسکراہٹوں سے لطف اندوز ہوتے تھے نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غضب سے پناہ مانگتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضگی رب کی ناراضگی ہے اور رب کی ناراضگی میں تو ہلاکت ہی ہے۔
٭…اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گفتگو کے ذریعے دل جوئی کرنا بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی