مسکرائے۔میں نے کہا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں حفصہ کے پاس گیا تھا اور اسے کہا: آپ اپنے ساتھ والی (یعنی حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) پر کبھی رشک نہ کرناکیونکہ وہ تم سے زیادہ حسین اور شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پسندیدہ زوجہ ہے۔‘‘یہ سن کر سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوبارہ مسکرادیئے۔ جب میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دوبارہ مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا اور کمرے میں نگاہ دوڑائی تو سوائے تین چمڑوں کے کچھ بھی نظر نہ آیا۔ میں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! دعا فرمائیں اللہعَزَّ وَجَلَّآپ کی امت پر کشادگی کرے، فارس اور روم پر اللہعَزَّ وَجَلَّنے وسعت فرمائی ہے حالانکہ وہ لوگ تو اللہعَزَّ وَجَلَّکی عبادت بھی نہیں کرتے۔‘‘ یہ سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سیدھے ہو کر تشریف فرما ہوگئے۔ پھر فرمایا:’’اے ابن خطاب! یہ وہ قومیں ہیں جنہیں دنیا ہی میں نعمتیں دے دی گئی ہیں ۔آخرت میں ان کا حصہ نہیں ۔‘‘
ایک روایت میں یوں ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام سے ایک بار یوں بھی کہا تھا کہ:’’ اے رباح! ( غلام کا نام) میرے لیے اجازت مانگو۔ مجھے گمان ہے کہ شاید رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ سمجھے ہیں کہ میں حفصہ کی (حمایت میں )بات کرنے آیا ہوں ۔خدا کی قسم! اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حکم فرمائیں تو میں اپنی بیٹی حفصہ کی گردن اڑا دوں ۔‘‘پھر آگے مکمل واقعہ ہے۔(1)
علم وحکمت کے مدنی پھول:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس طویل حدیث پاک سے علم وحکمت کے بے شمار مدنی پھول چننے کوملتے ہیں ، چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں انہیں اپنے دل کے مدنی گلدستے میں سجالیجئے:
٭…حصول علم دین کا حریص ہونا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے۔ اسی لیے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور آپ کے دوست انصاری صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ باری باری دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب النکاح ،باب موعظۃ الرجل ابنتہ لحال زوجھا ،ج۳، ص۴۶۰، حدیث:۵۱۹۱ ملتقطا۔
مسلم ،کتاب الطلاق ،باب فی الایلاء واعتزال النساء،ص۷۸۵، حدیث:۳۰۔