Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
355 - 831
میں   نے پوچھا :’’کیا ہوا؟ کیا غسان نے حملہ کردیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں   بلکہ اس سے بھی ہولناک رو پیش آیاہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔‘‘میں   نے کہا: ’’حفصہ برباد اور نامراد ہوگئی، مجھے یہی کچھ ہوجانے کا خدشہ تھا۔‘‘ چنانچہ میں   حفصہ کے پاس آیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں  نے کہا: ’’روتی کیوں   ہو، کیا میں   نے تمہیں   ڈرایا نہ تھا؟ کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمہیں   طلاق دے دی؟‘‘کہنے لگی: ’’مجھے معلوم نہیں  ، مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے مہمان خانے میں   ہم سے جدا ہو کر بیٹھ گئے ہیں  ۔‘‘ تو میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حبشی غلام کے پاس آیا اور کہا کہ ’’رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے میرے داخل ہونے کی اجازت مانگو۔‘‘ وہ واپس آیا تو کہنے لگا: ’’میں   نے آپ کا ذکر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کردیا ہے مگر آپ نے کوئی جواب نہیں   دیا۔‘‘ میں   اٹھ کر مسجد نبوی چلا آیا۔ کچھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  منبر کے قریب افسردہ بیٹھے تھےاور چند صحابہ تو رو بھی رہے تھے۔میں   تھوڑی دیر وہاں   بیٹھا۔پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں   نے غلام کے پاس آکر کہاکہ ’’رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے میرے داخل ہونے کی اجازت مانگو۔‘‘ وہ واپس آیا تو کہنے لگا: ’’میں   نے آپ کا ذکر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کردیا ہے مگر آپ نے کوئی جواب نہیں   دیا۔‘‘ میں   کچھ کہے بغیر خاموشی سے واپس پلٹا تو پیچھے سے غلام نے مجھے آواز دی کہ ’’آپ اندر آجائیے! اجازت مل گئی ہے۔‘‘چنانچہ میں   اندر گیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو سلام کیا۔ آپ ایک چٹائی پر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر واضح نظر آرہے تھے۔ میں   نے کھڑے کھڑے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیاآپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور فرمایا: ’’نہیں  ۔‘‘میں   نے کہا: ’’اللہ اکبر۔ ‘‘
پھر میں   کھڑے کھڑے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دلجوئی کے لیے عرض گزار ہوا:’’اَسْتَاْنِسُ يَا رَسُولَ اللّٰهِیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   آپ کے ساتھ باتیں   کرکے آپ کو مانوس کرنا چاہتاہوں  ۔ہم قریش جب مکہ مکرمہ میں   تھے تو اپنی عورتوں   پر غالب تھے۔ اوریہاں   مدینہ منورہ میں   آکر ہمارا ایسی قوم سے واسطہ پڑا جن پر عورتیں   غالب ہیں  ۔‘‘یہ سن کر حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم