میں ۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس واقعے کو تفصیلاً بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
میں اور میرے ایک پڑوسی انصاری صحابی (حضرت سیِّدُنا عتبان بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)ہم دونوں محلۂ بنوامیہ بن زید میں رہتے تھے اور دونوں کا یہ معمول تھا کہ ایک دن میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتا اور دوسرے دن وہ۔ میں جو بھی بارگاہِ رسالت سے علم حاصل کرتا وحی ہوتی یاکوئی بھی بات ہوتی تو میں انہیں بتادیتااسی طرح وہ مجھے بتا دیتے۔ ہم قریش جب مکہ مکرمہ میں تھے تو اپنی عورتوں پر غالب تھے۔ اوریہاں مدینہ منورہ میں آکر ہمارا ایسی قوم سے واسطہ پڑا جن پر عورتیں غالب ہیں ۔ان سے ہماری عورتوں نے بھی خود سری سیکھ لی ہے۔ میں ایک دن اپنی زوجہ پر کسی بات کے سبب غصے ہو رہا تھاتو وہ آگے سے تکرار کرنے لگی۔ میں نے کہا: ’’یہ عادت تمہیں کہاں سے پڑ گئی؟‘‘ وہ کہنے لگی: ’’میری تکرار آپ کو بُری لگتی ہے۔ خدا کی قسم ! دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواج مطہرات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تکرار کرلیتی ہیں اور پورا پورا دن آپس میں بات نہیں ہوتی۔‘‘یہ سن کر میں اپنی بیٹی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ (حضرت سیدتنا)حفصہ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کے پاس آیا اور انہیں کہا: ’’کیا یہ سچ ہے کہ تم ازواج میں سے اگر کوئی نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تکرار کرلیتی ہے تو دن بھر آپ سے کلام نہیں کرتی؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’جی ہاں ۔‘‘ میں نے کہا: ’’تم نامراد ہوئیں اور خسارے میں ہو۔کیا تمہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ناراض کرنے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی ناراض ہوجائے گا اور پھر صرف ہلاکت ہی ہوگی۔ اے بیٹی ! تم کبھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تکرار نہ کرنا، آپ سے کوئی چیز مت مانگنا، جو حاجت ہو مجھے بتانا میں پوری کردوں گا، اور اپنے ساتھ والی (یعنی حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) پر کبھی رشک نہ کرناکیونکہ وہ تم سے زیادہ حسین اور خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پسندیدہ زوجہ ہیں ۔‘‘
اُن دِنوں ہم آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ غسان کا بادشاہ ہم پرحملے کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کو تیار کررہا ہے۔ایک رات میرا وہی دوست میرے گھر آیا اور دروازے پر بہت زور سے دستک دینے لگاساتھ ہی مجھے آوازیں بھی دینے لگا۔میں حیران ہوکر باہر آیا اور اس سے خیریت دریافت کی تو اس نے کہا:’’ ایک بہت بڑا حادثہ رو نما ہو گیا ہے۔‘‘