تو ایسا نہیں کرتے تھے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’وہ دونوں شخصیتیں ہیں ہی ایسی کہ جن کی پیروی کرنی چاہیے۔ (یعنی میں ان دونوں کی اتباع میں اب یہ مال تقسیم نہیں کروں گا۔) (1)
بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ فرمایا:’’ میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جائوں گا جب تک غریب مسلمانوں میں کعبۃاللہ شریف کا سارا مال تقسیم نہ کردوں ۔‘‘میں نے کہا:’’ آپ ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘ فرمایا:’’ کیوں ؟‘‘ میں نے کہا:’’ اس لیے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقام سب نے دیکھ لیا ہے اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عمل بھی کسی سے مخفی نہیں ، وہ مال کی حاجت بھی رکھتے تھے پھر بھی یہ مال انہوں نے تقسیم نہیں کیا۔‘‘یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاٹھے اور حرم شریف سے باہر نکل گئے۔‘‘(یعنی آپ نے مال تقسیم کرنے کا ارادہ ترک فرمادیا۔) (2)
فاروقِ اعظم کی رسول اللہ سے والہانہ محبت:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی خواہش تھی کہ میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے معلوم کروں کہ یہ آیت مبارکہ کن دو ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی ہے: (اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَاۚ-) (پ۲۸، التحریم:۴) ترجمۂ کنزالایمان: ’’نبی کی دونوں بیبیو اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں ۔‘‘ حتی کہ میں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ حج کیا، پھر ہم ایک راستے پر جارہے تھے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قضائے حاجت کے لیے ایک طرف ہوگئے۔ جب فارغ ہوکر تشریف لائے تو میں نے برتن لے کر آپ کو وضو کروایا۔ پھر میں نے آپ سے وہی بات پوچھ لی کہ یہ آیت مبارکہ کن دو ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عبد اللہ بن عباس! بڑے تعجب کی بات ہے اب تک تمہیں معلوم نہیں کہ یہ آیت کن دوازواج کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟‘‘ پھر فرمایا:’’حفصہ اورعائشہ صدیقہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کے بارے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ،کتاب الحج،باب کسوۃ الکعبۃ، ج۱، ص ۵۳۶، حدیث: ۱۵۹۴۔
عمدۃ القاری، کتاب الحج، باب کسوۃ الکعبۃ، ج۷، ص۱۶۰، تحت الحدیث:۱۵۹۴۔
2…ابن ماجہ ،کتاب المناسک ،باب مال الکعبۃ،ج۳، ص۵۲۲، حدیث:۳۱۱۶۔