Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
352 - 831
میرے دونوں   دوستوں  (یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے جس راہ کو پسند کیا اور اس پر چلے، اگر میں   وہ چھوڑدوں   تو ان کے راستے سے ہٹ کر کسی اور راہ میں   جا پڑوں   گا۔‘‘(1)
 بڑھی ہوئی آ ستینوں   کو چھری سے کاٹ لیا:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نئی قمیص پہنی تو چھری منگوائی اور فرمایا: ’’اے بیٹے ! اس کی لمبی آستینوں   کو سرے سے پکڑ کر کھینچو اور جہاں   تک میری انگلیاں   ہیں   ان کے آگے سے کپڑا کاٹ دو۔‘‘ سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ میں   نے اسے کاٹا تو وہ بالکل سیدھا نہیں   بلکہ اوپر نیچے سے کٹا۔ میں   نے عرض کیا: ’’ابا جان! اگر اسے قینچی سے کاٹا جاتا تو بہتر رہتا؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’بیٹا!اسے ایسے ہی رہنے دو کیونکہ میں   نے شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایسے ہی کاٹتے دیکھا تھا۔اس لیے میں   نے بھی چھری سے آستینیں   کاٹ دیں  ۔‘‘امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے آستین کاٹنے کے بعد کُرتے کی حالت یہ تھی کہ اس سے بعض دھاگے باہر نکل نکل کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قدموں   کے بوسے لیتے رہتے تھے۔(2)
فاروقِ اعظم اور رسول اللہ وخلیفۂ رسول اللہ کی اتباع:
حضرت سیِّدُنا ابو وائل شقیق بن سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں   ایک کرسی پر سیِّدُنا شیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ کعبۃ اللہ شریف میں   بیٹھا ہوا تھا، تو شبیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہنے لگےکہ اسی جگہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف فرما تھے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرمانے لگے: ’’میرا رادہ ہے کہ کعبے میں   موجود رہم ودینار، مال وزر تقسیم کردوں  ۔‘‘ میں   نے کہا:’’حضور! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دونوں   دوست (یعنی نورکے پیکر، تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…موطا امام مالک، کتاب الزکاۃ، باب جزیۃ اھل الکتاب۔۔۔الخ، ج۱، ص۲۵۷، حدیث:۶۳۰، ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۳۸۔
2…مستدرک حاکم، کتاب اللباس، کان نبی اللہ۔۔۔الخ، ج۵، ص۲۷۵، حدیث:۷۴۹۸۔