چلے۔ کیا وہ ا ِن سے جا ملے گا؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہر گز نہیں ۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ وہ تیسرا ساتھی میں ہوں ، میں ان کی سنت پر ہی چلتا ہوا ان کے پاس پہنچوں گا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی آئیڈیل شخصیات
پیارے آقا کی پیروی کا جذبہ:
حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا: ’’مالِ غنیمت کے ذخیرے میں ایک اندھی اونٹنی بھی ہے اس کا کیا کریں ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اُسے کسی ایسے گھرانے کے سپرد کردو جو اس سے بہتر استفادہ کرسکیں ۔‘‘( یعنی غریب ہوں ) میں نے کہا: ’’حضور!وہ تو اندھی ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اسے وہ اپنے اونٹوں کی قطار میں لگالیں گے۔‘‘ میں نے کہا:’’حضور! وہ زمین سے چرے گی کیسے؟‘‘ فرمایا: ’’وہ جزیہ کے غلہ میں سے ہے یا صدقہ کے جانوروں میں ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’جزیہ میں سے۔‘‘ فرمایا:’’ خدا کی قسم! تم لوگ اسے کھانا ہی چاہتے ہو۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس سات بڑے تھال پڑے رہتے تھے، اگر کہیں سے کوئی پھل یا کوئی نئی چیز آتی تو ان میں ڈال دی جاتی اور انہیں سب سے پہلے حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواج مطہرات کے گھروں میں بھیج دیا جاتا۔سب سے آخر میں اُمّ المومنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا حصہ بھیجا جاتا تاکہ اگر کمی آئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی کے حصہ ہی میں آئے۔‘‘ چنانچہ اس اونٹنی کا کچھ گوشت ان تھالوں میں ڈالا گیا اوراُمہات المؤمنین، رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج مطہرات کی خدمات میں بھیجا گیا اور بقیہ گوشت کو پکوا کر مہاجرین و انصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی دعوت کر دی گئی۔ حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے:’’ اے امیر المومنین! اگر آپ ہر روز ایسی ہی دعوت کیا کریں تو کتنا اچھا ہو۔ کئی مرتبہ آپ نے پہلو تہی کرتے ہوئے دعوت نہ کی اور نہ آپ کے ساتھ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے۔‘‘ یہ سن کرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’آئندہ میں ایسی دعوت کبھی نہیں کروں گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ،ج۱،ص۳۳۸۔