Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
350 - 831
اتباع رسول میں   فاروقِ اعظم کی سادہ اورسخت کوش زندگی :
حضرت سیِّدُنا مصعب بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی:’’ اے امیرا لمومنین ! آ پ نے جو کپڑے پہنے ہیں   یہ تو بہت سخت ہیں   آپ ان سے نرم کپڑے کیوں   نہیں   پہنتے نیز آپ جو کھانا کھاتے ہیں   وہ آپ کے شایان شان نہیں   آپ اس سے اچھا کھانا کیوں   نہیں   پسند کرتے حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں   رزق میں   وسعت بھی دے رکھی ہے؟ ‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں   اب تمہارے ضمیر سے اس کی دلیل فراہم کرتا ہوں  ،تمہیں   یاد نہیں   کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کس قدر مشقت آمیز زندگی بسر کرتے تھے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دکھوں   اور تکالیف سے بھری زندگی کے مختلف احوال سناتے رہے یہاں   تک کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  رونے لگیں  ۔ پھر ارشاد فرمایا:’’ خدا کی قسم ! دنیا میں   میں   بھی نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورخلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسی تکلیفوں   بھری زندگی گزاروں   گا تاکہ میں   ان دونوں   جیسی پسندیدہ زندگی پاسکوں  ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی سنت سے محبت :
ایک روایت میں   ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اے بیٹی! حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات طیبہ کیسی تھی؟‘‘انہوں   نے کہا:’’خدا کی قسم! ایک ایک ماہ گھر میں   نہ دیا جلتا اور نہ ہی ہنڈیاپکتی تھی۔ سیِّد عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک جُبّہ ہوتاتھا جسے آپ اوڑھنا اور بچھونا بنالیتے۔‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’یہ بتائو نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زندگی کیسی تھی؟ انہوں   نے کہا: ’’وہ بھی ویسی ہی تھی۔‘‘ تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’اُن تین دوستوں   کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے، جن میں   سے دو دنیامیں   ایک ہی طریقے پر چلتے ہوئے دنیا سے تشریف لے گئےاور تیسرا اُن کی مخالفت میں   
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الزھد،ما ذکر عن نبینا ۔۔۔الخ،ج۸،ص۱۳۰،حدیث:۳۳۔