Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
35 - 831
 فرمائے، تمہاری مصیبتیں   اور پریشانیاں   دور فرمائے، لیکن امیر المؤمنین کو کیا معلوم کہ تم یہاں   اس حال میں   ہو؟‘‘ خاتون نے سوالیہ لہجے میں   کہا: ’’وہ ہمارا حاکم ہے اور ہم سے غافل ہے؟ اسے معلوم ہی نہیں   کہ ہم کس حال میں   ہیں  ؟‘‘
بہرحال آقا اس دکھیاری خاتون کی حالت زار سن کر اس کے گھر سے باہر آگیا اور اپنے خادم اسلم سے کہا:’’میرے ساتھ جلدی چلو ۔‘‘پھر دونوں   تیزی سے چلتے ہوئے مدینہ منورہ کی اندرونی آبادی کی طرف روانہ ہوگئے۔آقا بہت گہری سوچ میں   گم تھا کیونکہ اس خاتون کی حالت زار اور اس کی بیان کی گئی آب بیتی نے آقا کی ذات پر بڑے گہرے نقوش چھوڑ ے تھے، جو آقا پہلے اپنے خادم سے گفتگوکرتے ہوئے یہاں   تک پہنچا تھا اب وہی آقا خاموشی کی چادر تانے تیزی کے ساتھ رواں   دواں   تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں   ایک غلے کے گودام کے قریب کھڑے تھے، خادم نے دروازہ کھولا، آقا نے جلدی سے ایک بوری آٹا،کھجوریں  ، کچھ رقم اورکھانا پکانے کے دیگر لوازمات ساتھ لیے اور خادم سے کہا:’’اسلم! انہیں   میری پیٹھ پر لاد دو۔‘‘خادم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا: ’’حضور ! آپ مجھے حکم فرمائیں   میں   اسے اپنی پیٹھ پر لاد کر خاتون تک پہنچا دوں   گا۔‘‘ آقا نے خادم کی طرف دیکھا اور ایک آہِ سرد دلِ پُردرد سے کھینچ کر کہا: ’’آہ۔۔۔! آج اس دنیا میں   تو تومیرے حصے کا بوجھ اپنی پیٹھ پر لاد لے گا،میری تکلیف کو برداشت کرلے گا لیکن یاد کر اس دن کو جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں   اٹھائے گی اورکسی کی تکلیف دوسرے کو نہیں   دی جائے گی، کیا اُس دن بھی تو ہی میرا بوجھ اٹھائے گا؟‘‘ خادم اپنے آقا کا فکر آخرت سے بھرپور جواب سن کر خاموش ہوگیا اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سارا سامان آقا کی پیٹھ پر ڈال دیا۔دونوں   ایک بار پھر مدینہ منورہ سے باہر اس دکھیاری خاتون کے گھر کی طرف رواں   دواں   تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں   گھر تک پہنچ گئے، خاتون ان دونوں   کو سامان کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئی ۔آقا نے وہ سارا سامان اتارا اور آٹے کی بوری کھول کر اس خاتون سے کہا:’’اس میں   سے آٹا نکالواور اس پر نمک ڈالو تاکہ میں   حریرہ (آٹے سے بنایا جانے والا کھانا)بناؤں   ۔پھر آقا ہنڈیا کے نیچے آگ پھونکنے لگا،یہاں   تک کہ دھواں   اس کی داڑھی کے درمیان سے نکلنے لگا۔آقا ساتھ ساتھ آگ بھی جلاتا رہا اور کھانا بھی پکاتا رہا،بالآخر کھاناپک کرتیار ہو گیا۔ آقا نے ہنڈیا کوچولہے سے نیچے اتارا اور خاتون سے کہا:’’کوئی بڑا اورکُھلا برتن لاؤ۔‘‘وہ خاتون ایک بڑا سا پیالہ لے آئی۔‘‘آقا نے اس میں   کھانا ڈالا اوراپنے ہاتھوں   سے اسے ٹھنڈا کرنے لگا جب کھانا ٹھنڈا ہوگیا تو اس نے