Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
349 - 831
اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)) (پ۳، آل عمران:۳۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں   دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے  ۔‘‘
کسی سے کوئی چیز نہ لو:
محبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سيدناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو کوئی چيز بھيجی تو انہوں   نے اسے لوٹا ديا۔‘‘ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے استفسار فرمایا: ’’اے عمر!تم نے وہ چيز کيوں   لوٹا دی؟‘‘ انہوں   نے عرض کیا: ’’کيا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہميں   نہيں   بتايا کہ آدمی کی بھلائی اسی ميں   ہےکہ وہ کسی سےکوئی چيز نہ لے؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمايا: ’’یہ حکم تو سوال کرنےکی صورت ميں   ہے اور جو چيز سوال کے بغير حاصل ہو وہ تو رزق ہے جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے عطا فرمايا ہے۔‘‘ تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت ميں   ميری جان ہے! ميں   کسی سےکوئی شئے نہ مانگوں   گا اور جو چيز سوال کئے بغير ميرے پاس آئے گی اسے لے ليا کروں   گا۔‘‘(1)
رسول اللہ کی اتباع وپیروی: 
حضرت سیِّدُنا جبیر بن نفیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک بار میں   حضرت سیِّدُنا شرحبیل بن سمط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ سترہ یا اٹھارہ میل دورعلاقۂ’’حِمْص‘‘ کے ’’دُوْمِیْن‘‘ نامی ایک گاؤں   کے پاس گیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں   دو رکعت نماز ادا کی۔ میں   نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں   نے کہا:’’میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو مقام ’’ذوالحلیفہ ‘‘میں   اسی طرح دو رکعت نماز ادا کی۔ میں   نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں   نے ارشاد فرمایا:’’اِنَّمَا اَفْعَلُ كَمَا رَاَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُمیں   وہی کر رہا ہوں   جو میں   نے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو کرتے دیکھا ہے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب البیوع و الاقضیۃ،فی الرجل یھدی الی۔۔۔الخ،ج۵،ص۲۳۱،حدیث:۶۔کنز العمال،کتاب الزکاۃ،فصل فی آداب الاخذ ۔۔۔الخ ،الجزء :۶ ،ج۳، ص۲۶۹، حدیث:۱۷۱۴۷۔
2…مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ،با ب صلوۃ المسافرین۔۔۔الخ ،ص۳۴۹، حدیث:۱۳۔