Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
347 - 831
ہے؟‘‘ فرمایا: ’’حذافہ۔‘‘ ایک منافق بولا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں   جنت میں   جائوں   گا یا جہنم میں  ؟‘‘ فرمایا: ’’ جہنم میں  ۔‘‘ایک اور شخص بولا:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم پر ہر سال حج فرض ہے؟‘‘ فرمایا :’’ اگر میں   کہہ دوں  : ہرسال تو ہرسال حج فرض ہوجاتا جسے تم پورا نہ کرسکتے اور تم ہر سال حج نہ کرتے تو تم پر عذاب نازل ہو تا۔‘‘دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا جلال دیکھ کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فوراً پکار اٹھے:’’یارسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نبی ہونے پر راضی ہیں  ۔ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمارے سر بستہ ایسے راز نہ کھولیں  ۔ ہمیں   معاف فرمادیجئے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے گا۔‘‘یہ سُن کر سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا غصہ جاتا رہا۔اس کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دیوار کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا:’’ اس دیوار کے پیچھے مجھے جنت ودوزخ دکھائی گئی ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم اور رسول اللہ کی تصدیق
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے، تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک رات مکہ مکرمہ میں   کھڑے ہو کر تین مرتبہ ارشاد فرمایا :’’اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! کیا میں   نے تیرا پیغام نہيں   پہنچادیا ؟‘‘ تو حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوگئے چونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبے حد درد مند تھے لہٰذا عرض کی : ’’جی ہاں  ! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں   کی رغبت دلائی، اس معاملہ میں   خوب کوشش کی اور خیرخواہی سے کام لیا۔‘‘ توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ایمان ضرور غالب آئے گا یہاں   تک کہ کفر اپنی جگہوں   کی طرف لوٹ جائے گا اور سمندر اسلام سے بھر جائیں   گے اور لوگوں   پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں   وہ قرآن پاک سیکھیں   گے اور اس کی قراء ت کریں   گے، پھر کہیں   گے ہم نے قرآن پاک پڑھا اور دوسروں   کو سکھا یا تو ہم سے بہتر کون ہے؟ کیا ان لوگوں   میں   کوئی بھلائی ہے؟‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند ابی یعلی، ابوسفیان عن انس، ج۳، ص۲۹۸، حدیث:۳۶۷۸۔
2…معجم کبیر،ھند بنت الحارث۔۔۔الخ،ج۱۲، ص۱۹۴، حدیث:۱۳۰۱۹۔