Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
346 - 831
فاروقِ اعظم کا خوف خداوخوف رسول خدا:
حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بعض سوالات کیے گئے جو آپ کو ناپسند آئے مگر جب وہ سوالات بار بار پوچھے گئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلال میں   آگئے اور ارشاد فرمایا: ’’فَلَا تَسْئَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا اَخْبَرْتُکُمْ یعنی تم مجھ سے جس شے کے بارے میں   پوچھوگے میں   تمہیں   بتاؤں   گا۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن حذافہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میرا باپ کون ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا :’’تیر ا باب حذافہ ہے۔‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چہرے اقدس پر جلال کے آثار دیکھے تو عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   توبہ کرتے ہیں  ۔ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نبی ہونے پر راضی ہیں  ۔ یہ سن کر خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کاجلال رحمت میں   تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیوار کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا:’’ابھی اس دیوار کے وسط میں   مجھ پر جنت ودوزخ پیش کی گئی اس سے پہلے میں   نے خیر وشر کی ایسی مثال نہیں   دیکھی۔‘‘(1)
رسول اللہ کا جلال دیکھ کر فوراًتوبہ :
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو جہاں   کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک بار ہمارے پاس تشریف لائے تو انتہائی جلال کی حالت میں   تھے۔ ہمیں   یوں   لگا جیسے جبریل امین بھی آپ کے ساتھ ہیں  ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر تشریف لے گئے۔سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں   کہ اس دن سے زیادہ میں   نے آپ کو کبھی روتے ہوئے نہ دیکھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ سَلُوْنِیْ فَوَاللہِ لَا تَسْئَلُوْنِیْ عَنْ شَیْءٍ اِلَّا اَنْبَئْا تُکُمْ یعنی آج پوچھو، جو بھی پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔ خدا کی قسم! جو کچھ تم پوچھو گے میں   تمہیں   ضروربتاؤں   گا۔‘‘ ایک صحابی نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرا باپ کون 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب وقت الظھر عند الزوال، ج۱، ص۲۰۰، حدیث:۵۴۰۔