فاروقِ اعظم مزاج شناس رسول اللہ:
حضرت سیِّدُنا ابوقتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ایک شخص حاضر ہو کر کہنے لگا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ روزہ کیسے رکھتے ہیں ؟‘‘سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ بات سن کر جلال آگیا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب رخ انور پر جلال کے آثار دیکھے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو راضی کرنے کے لیے یوں گویا ہوئے:’’رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَ بِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُوْلِہٖ یعنی ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے ، محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہیں اور ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جلال سے پناہ مانگتے ہیں ۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبار بار یہ الفاظ دھرانے لگے تونبیٔ اکرم رحمت دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جلال مبارک رحمت میں تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ساری عمر بلا ناغہ روزہ رکھتا ہے؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’نہ اس نے روزہ رکھا نہ چھوڑا۔ چھوڑا تو اس نے واقعی نہیں مگر اسے کسی روزہ کا ثواب بھی نہیں ملا اس لیے روزہ رکھا بھی نہیں ۔‘‘ عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! جو شخص ہمیشہ دو دن روزہ رکھتا اور ایک دن چھوڑتا ہے اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’ایسی طاقت کس میں ہے؟‘‘عرض کیا:’’ ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن چھوڑنے والا کیسا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’یہ تو دائود عَلَیْہِ السَّلَام کا روزہ ہے۔‘‘ عرض کیا: ’’جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن چھوڑے وہ کیسا ہے؟‘‘ فرمایا:’’ میں چاہتا ہوں کہ مجھ میں ایسی طاقت آجائے۔‘‘ اس کے بعد رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ ہر ماہ میں تین دن اور رمضان میں پوراماہ روزہ رکھنا تمام عمر روزہ رکھنے کی فضیلت رکھتا ہے، اور عرفات کے دن روزہ رکھنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مجھے امید ہے کہ اگلے ایک سال اور پچھلے ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور دسویں محرم کے روزہ میں رب کی رحمت سے مجھے امید ہے کہ پہلے ایک سال کے گناہ دھُل جاتے ہیں ۔‘‘(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب الصیام، استحباب صیام ثلاثۃ ایام، ص۵۸۹، حدیث:۱۱۶۲۔