درہم میں بیچ دیا۔ (1)
فاروقِ اعظم اور رسول اللہ کی ناراضگی کا خوف
رسول اللہ کے غضب سے خدا کی پناہ:
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضور سید عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ تورات کانسخہ ہے۔‘‘ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے پڑھنا شروع کردیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرہ مبارک شدتِ جلال کی و جہ سے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدل رہا تھا لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کی خبر نہ تھی کہ خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اے عمر! تجھے رونے والی عورتیں روئیں ! تم تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرہ انورکی حالت نہیں دیکھ رہے۔‘‘تب حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ انور کو دیکھا اور فوراً کہا: ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَغَضَبِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَضِیْنَابِاللّٰہِ رَبّاً وَبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَبِمُحَمَّدٍ نَّبِیًّا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غضب سے خدا کی پناہ! ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے۔‘‘ سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم پر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ظاہر ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرتے تو راہِ راست سے ہٹ جاتے اور اگر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام دنیا میں ہوتے اور میری نبوت کے ظہور کے زمانے کو پاتے تو میری پیروی کرتے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم ،کتاب اللباس والزینۃ ،تحریم استعمال اناء الذھب ۔۔۔الخ،ص۱۱۴۹، حدیث:۱۶۔
2…دارمي، باب ما یتّقي من تفسیر حدیث النبی ۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۱۲۶، حدیث:۴۳۵۔