Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
343 - 831
 لوگوں   میں   دلی طور پرسب سے زیادہ بہادر تھے، وہ تو نکھرے نکھرے چہرے والے، مہکتی خوشبو والے اور حسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ مکرم تھے، اولین وآخرین میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مثل کوئی نہیں  ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا عقیدۂ محبت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ محبت کے کیا کہنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  تو بلا تکلف تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے سامنے اپنے آپ کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بندہ یعنی غلام اور خدمت گار فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب منصب خلافت پر فائز ہوئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے برسر منبر فرمایا: ’’کُنْتُ مَعْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُنْتُ عَبْدَہُ وَخَادِمَہُ یعنی میں   حضور پر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت بابرکت سے فیض یافتہ رہا ہوں   پس میں   حضور کا بندہ (غلام) اور خدمت گار رہا ہوں  ۔‘‘(2)
ہم کوتووہ پسند جسے آئے تو پسند
جوچیز رسول اللہ کو پسند نہیں   مجھے بھی پسند نہیں   :
 	حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بار حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   دیباج سے بنا ہوا قبا ( چُوغہ) پیش کیا گیا ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے ایک بار پہنا اور پھر اتار کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھیج دیا اور ارشاد فرمایا کہ: ’’مجھے جبریل امین نے اس کے پہننے سے منع کردیا ہے۔‘‘یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روتے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’كَرِهْتَ اَمْرًا وَاَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِيیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو چیز آپ نے ناپسند فرمائی وہ مجھے عطا فرمادی، جو چیز آپ ہی کو ناپسند ہے میں   اس کا کیا کروں  ؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…جمع الجوامع، ج۱۰، ص۱۶، حدیث:۳۳۔
2…مستدرک حاکم، کتاب العلم،خطبۃ عمر بعد ماولی۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۳۲،حدیث:۴۴۵ملتقطا۔
 نے فرمایا: ’’اے عمر! میں   نے تمہیں   پہننے کے لیے نہیں   بلکہ بیچنے کے لیے دیا ہے۔‘‘ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے دو ہزار