ترازو میں تول رہا ہے؟ یہ کیسا عاشق ہے جو عقل کے دلائل کو عشق کے دلائل سے مات دے رہاہے؟ یہ عاشق صادق کون ہے؟یہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے یہ وہی عاشق ہیں جن کے اسلام کی دعا خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کی، پوری کائنات رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مرید ہے ، مگر یہ وہی عاشق ہیں جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرید ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی مراد بھی ہیں ، یہ وہی عاشق ہیں جنہیں رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے خود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مانگا۔ جی ہاں ! اس عاشقِ صادق کو اسی کامل عشق کے طفیل دنیا میں اختیار و اقتدار اور آخرت میں عزت و وقار ملا۔ یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشق کا کمال تھا کہ مشکل سے مشکل گھڑی اور کٹھن سے کٹھن وقت میں بھی اتباع رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے انحراف گوارا نہ تھا۔ وہ ہر مرحلے میں اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نقش پا ڈھونڈتے اور اُسی کو مشعلِ راہ بناکر فاتح وکامراں رہتے۔گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنا مقصدِ حیات اِس بات کو بنا لیا تھا کہ :
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
محمد کی محبت دین حق کی شرطِ اوّل ہے
اِسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشق کی محفل میں شریک ہوں ،فتح و ظفر جن کے قدم چومتی تھی، عشق رسول جن کی متاع زندگی، اتباع رسول جن کا سرمایۂ حیات، اور جہاں بانی جن کی تقدیر بن چکی تھی۔ ہم دیکھیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات سے اُن کا کیسا والہانہ تعلق تھا۔ اگرہم اپنی نگاہ بصیرت تیز کریں اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشقِ رسول کے واقعات میں ان کی چلتی پھرتی زندگی دیکھیں ، رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اَقدس میں اُن کی مقدس و باعظمت اَداؤں کا مشاہدہ کریں ، چشمِ تصور سے لوحِ دل پر اُن کے پاکیز ہ عشق کا نقشہ اتاریں ، تو ہوسکتاہے اُن کا کچھ فیضانِ عشق ہمارے