Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
34 - 831
 ایک خیمہ تھا جس میں   آگ جل رہی تھی۔
آقا نے اپنے خادم کی طرف دیکھ کر کہا:’’اے اسلم! اتنی سخت سردی میں   کون ہوسکتاہے ؟ ‘‘ اسلم نے لا علمی کا اظہار کیا تو آقا نے کہا:’’میرا خیال ہے شاید کوئی قافلہ ہے، رات اور سردی کی وجہ سے یہیں   ٹھہر گیا ہوگا۔آؤ چل کر دیکھتے ہیں   کیا معاملہ ہے؟‘‘دونوں   چلتے ہوئے جیسے ہی خیمے کے قریب پہنچے تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ کوئی خیمہ نہیں   بلکہ ایک ٹوٹا پھوٹا کچا گھر ہے،اور اس میں   کوئی قافلہ وغیرہ نہیں   تھا بلکہ وہاں   تو ایک خاتون اپنے ننھے منے بچوں   کے ساتھ مقیم تھی جس نے چولہے پر ایک ہنڈیا چڑھا رکھی تھی جیسے کھانا پکا رہی ہو اور بچے اس کے ساتھ بیٹھے مسلسل رو رہے تھے،غالباً انہیں   بہت بھوک لگی تھی۔
آقا نے سلام کیاتو اس خاتون نے دونوں   کی طرف توجہ کیے بغیر سلام کا جواب دیا۔آقا نے گھرمیں   داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا :’’ کیا میں   اندر آسکتاہوں  ؟‘‘ خاتون نے جواب دیا:’’اگر کسی خیر کا ارادہ ہے آؤ ورنہ کوئی ضرورت نہیں  ۔‘‘غالباً وہ خاتون بہت دکھی تھی، اس لیے بے رخی سے جواب دے رہی تھی۔لیکن آقا کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اس دکھی خاتون کے دکھ میں   شریک ہونا چاہتاہے ۔
اس نے خاتون سے استفسار کیا:’’اے بی بی! تم کون ہواور یہ بچے کیوں   رو رہے ہیں  ؟‘‘ خاتون نے جواب دیا: ’’میں   مدینہ منورہ کی رہائشی ہوں   ، ان بچوں   کوشدید بھوک لگی ہے اوریہ اسی وجہ سے رو رہے ہیں  ۔‘‘ آقا نے کہا:’’اس ہنڈیا میں   کیا ہے ؟‘‘خاتون نے کہا: ’’اس میں   تو صرف پانی ہے ، میں   نے بچوں   کا دل بہلانے کے لیے اسے آگ پر چڑھا رکھا ہے تاکہ کھانا پکنے کے انتظار میں   بچے سوجائیں  ۔‘‘ پھر اس دکھیاری خاتون نے اپنے دل کا درد بیان کرتے ہوئے کہا: ’’میں   ایک غریب عورت ہوں  ، میرے پاس اتنے اخراجات نہیں   کہ اپنے بچوں   کو کھانا کھلا سکوں  ، ان کا دل بہلا رہی ہوں  ، لیکن امیر المؤمنین کو ہماری کوئی خبر نہیں  ، ہم ان کے محکوم ہیں   ، ان کی رعایا ہیں   ، ان کا حق بنتا ہے کہ وہ ہمارا خیال رکھیں  ، خیر کوئی بات نہیں   ہمارا وقت تو جیسے تیسے گزر ہی جائے گا لیکن کل بروز قیامت امیر المؤمنین اور ہمارے درمیان اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی فیصلہ فرمائے گا، اور یقیناً آخرت کی پکڑ بہت سخت ہے۔‘‘
آقا نے اس دکھیاری خاتون کا درد سنا تو وہ بھی آبدیدہ ہوگیا اور نرم لہجے میں   کہنے لگا: ’’اے بی بی!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم