Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
339 - 831
فاروقِ اعظم کا عشقِ رسول 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان میں   والدین ، اولاد،بھائی بہن، زوجہ، خاندان ، مال ، تجارت اور مکان وغیرہ ان تمام چیزوں   سے محبت فطری چیز ہے۔ لیکن رب تعالیٰ اپنے بندوں   کو آگاہ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے اندر ان تمام چیزوں   کی محبت میری اور میرے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے بڑھ جائے تو گویا تم خطرے کی حد میں   داخل ہوچکےا ور بہت جلد تمہیں   میراغضب اپنی لپیٹ میں   لے لے گا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک مومن کے لئے حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت نہ صرف فرض ہے بلکہ سب سے قریبی رشتہ داروں   اور سب سے قیمتی متاع پر مقدم ہے۔ خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ارشاد فرماتے ہیں  :’’  لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنیعنی تم میں   کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں   ہوسکتا جب تک کہ میں   اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں   سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں  ۔‘‘(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محبت جب حد سے بڑھ جائے تو عشق کا رنگ اختیار کرلیتی ہے،عشق کی تاثیر بڑی حیرت انگیز ہے۔عشق نے بڑی بڑی مشکلات میں   عقل انسانی کی رہنمائی کی ہے۔ عشق نے بہت سی لاعلاج بیماریوں   کا کامیاب علاج کیا ہے۔ عشق کے کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں  ۔دیکھیے! مدینۂ منورہ کا پر آشوب ماحول ہے، نورکے پیکر، تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری ہوچکا ہے، ماحول سوگوار ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے، کیونکہ جانِ کائنات ربِّ کائنات کے لقاء کاسفر اختیار کرچکی ہے، تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو یقین ہوچکاہے کہ حضور نبی ٔ رحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واقعی دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں  ، لیکن ایک عاشق ایسا بھی تھا جس کے عشق اور عقل میں   مناظرہ جاری تھا، عقل اس بات پر مصر تھی کہ محبوب واقعی تشریف لے جاچکے ہیں  ، عشق پکار پکار کر کہہ رہا تھایہ نہیں   ہوسکتا، یہ نہیں   ہوسکتا۔ بالآخر عشق کے دلائل کا عقل پر غلبہ ہواتو تلوار نکال لی اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے درمیان جا کر اپنے عشق کا فیصلہ سنا دیا کہ اگر کسی نے بھی یہ کہا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وصال فرماگئے ہیں   تو اس کی گردن اڑادوں   گا۔یہ کیسا عاشق ہے جو اپنی آنکھوں   کے مشاہدے کوبھی عشق کے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری،کتاب الایمان ، باب حب الرسول ۔۔۔الخ،ج۱، ص۱۷، حدیث:۱۵۔