Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
337 - 831
٭…حضرت سیِّدُنا اسلم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  ۔(سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے غلام)
یہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نہایت ہی قریبی اور خاص الخاص خادم تھے۔ سفرو حضر میں   عموماً یہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ مختلف واقعات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اِنہیں   سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مشیر کی حیثیت حاصل تھی۔نیز سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مشہور واقعہ جس میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عوام الناس ورعایا کی خیر خواہی کے لیے رات کو مدینہ منورہ کے علاقائی دورے کے لیے روانہ ہوئے، اُس میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے یہی غلام یعنی حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   ساتھ تھے۔ بیوہ خاتون کے لیے غلے کے گودام سے جب سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے راشن لیا اور اِنہیں   فرمایا کہ یہ سامان میری پیٹھ پرڈال دوتو اِنہوں   نے اُس سامان کو خود اٹھانے کی پیش کش کی لیکن سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فکر آخرت کا ذہن دیتے ہوئے اِن کی مدنی تربیت فرمائی۔ اِس سے معلوم ہوتاہے کہ سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ سے تقویٰ وپرہیزگاری کی خصوصی تربیت اور فیضان حاصل کرتے رہتےتھے۔
٭…حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  ۔(سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے غلام)
٭…حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَہَّاب ۔
٭…حضرت سیِّدُنا رُفَیْل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ۔
٭…حضرت سیِّدُنا ھُرْمُزَان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان ۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور ان سب کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…فتوح الشام، ذکر فتح مدینۃ بیت المقدس، ج۱، ص۲۳۵۔الاصابۃ، الرفیل، ج۲، ص۴۲۸، الرقم: ۲۷۴۷۔الاصابۃ، الھرمزان الفارسی، ج۶، ص۴۴۸، الرقم: ۹۰۶۶۔