Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
336 - 831
مسلمان کیا فرشتے بھی خوش ہوئے جن کے اسلام لانے پر
وہ حق کی شان غیظ دشمناں   فاروقِ اعظم تھے
پڑھی جانے لگیں   ساری نمازیں   خانہ حق میں  
مسلمانوں   کی اس شوکت کی جاں   فاروقِ اعظم تھے
اِسلام بروزقیامت فاروقِ اعظم سے مصافحہ کرے گا:
حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ کل بروز قیامت اسلام آئے گا تو خلق خدا غور سے اسے دیکھے گی یہاں   تک کہ وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس پہنچے گا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ پکڑ کر عرش کے درمیانی حصے پر چڑھے گا، پھر بارگاہِ خداوندی میں   یوں   عرض کرے گا: ’’اِیْ رَبِّ! اِنِّیْ کُنْتُ خَفِیًّا وَاَھَانَ وَھٰذَا اَظْھَرَنِیْ فَکَافَئَہُ یعنی اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ! میں   بالکل چھپا ہوا تھا اور کفار میری توہین کرتے تھے لیکن اس شخص نے مجھے بالکل ظاہر کردیا اور کفار کا مقابلہ کیا۔‘‘ یہ سن کر رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے فرشتے حاضر ہوں   گے اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں   جنت میں   داخل کردیں   گے حالانکہ اس وقت لوگ اپنے حساب کتاب میں   مشغول ہوں   گے۔(1)
آپ کے ہاتھ پر قبول اسلام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ پر قبول اسلام کرنے والے دو طرح کے لوگ ہیں  :(۱) وہ لوگ جنہوں   نے عہدِ رسالت و عہدِ صدیقی میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔(۲) وہ جنہوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کے دورِ خلافت میں   قبولِ اسلام کیا۔یقیناً دوسری قسم کے لوگوں   کی تعداد پہلی قسم سے بہت زیادہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   بلامبالغہ لاکھوں   لوگوں   نے قبولِ اسلام کیا۔ البتہ کتب احادیث وسیر وتواریخ میں   دونوں   اَقسام کے مسلمانوں   کا بہت ہی کم تذکرہ ملتا ہے۔چند ایسے مسلمانوں   کے اسمائے مبارکہ پیش خدمت ہیں   جن کا تفصیلی تذکرہ اسماء الرجال کی کتب میں   موجود ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب، الباب الحادی عشر،ص۲۳۔