Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
335 - 831
(5).....مؤمنوں   کو نئی پہچان ملی :
حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ جب تک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمسلمان نہ ہوئے تھے تب تک ہمیں   ’’مومنین ‘‘کا نام نہ دیا گیا تھا اور جیسے ہی آپ نے اسلام قبول فرمایا   اللہ 
عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں   ’’مومنین‘‘ کا معزز نام عطا فرمادیا۔(1)
(6).....کفار کی قوت ٹوٹ گئی:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں   کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمشرف با اسلام ہوئے تو مشرکین نے غمزدہ ہو کر کہا: ’’آج ہم آدھے ہوگئے ۔‘‘(2)
(7).....مسلمانوں   کی قوت میں   اضافہ ہوگیا:
حضرت سیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مسلمان ہوجانے کے بعد ہم کفار کا بھرپور مقابلہ کیا کرتے تھے۔(3)
فاروقِ اعظم کا راہ خدامیں   تکلیفیں   سہنے کاجذبہ:
حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خود ارشاد فرمایا:’’ میں   جب بھی کسی مسلمان کو راہ خدا میں   تکالیف سہتے ہوئے تو دیکھتا تو کہتا: یہ کیا بات ہوئی کہ دیگر مسلمان تو راہ خدا میں   تکلیفیں   سہیں  ، ان پر باتیں   کسی جائیں   اور میں   اس سعادت سے محروم رہوں  ۔‘‘(4)
دعا حضرت نے کی جن کے اسلام لانے کی
ظہور دیں   کے وہ پہلے نشاں   فاروقِ اعظم تھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ریاض النضرۃ ،ج۱، ص۲۸۴۔
2…مستدرک  حاکم ،کتاب معرفۃ الصحابۃ، قتال عمر مع المشرکین۔۔۔الخ، ج۴، ص۳۸، حدیث:۴۵۵۰۔
3…صفۃ الصفوۃ، ج۱، الجزء:۱، ص۱۴۲۔
4…مسند بزار، اسلم مولی عمر عن عمر، ج۱، ص۴۰۳، حدیث:۲۷۹۔