(2).....مسلمان محفوظ ہوگئے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن اسحاق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص جنہیں کفار قریش نے یہ ذمہ داری دی تھی کہ وہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو ورغلا کر وہاں گئے ہوئے مسلمانوں کو واپس لائیں لیکن نجاشی بادشاہ نے انہیں بے مراد لوٹا دیا۔ ادھر مکہ مکرمہ میں حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمسلمان ہوگئے۔ آپ بڑے ہی رعب اوردبدبہ والے تھے ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی پیٹھ پیچھے بھی کوئی آپ پر اعتراض نہیں کرسکتا تھا۔ اسی لیے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وجہ سے مسلمان کفار قریش کے شر اور ان کی تکالیف سے محفوظ ہوگئے۔(1)
(3).....مسلمان معزز ہوگئے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ جب سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلام لائے ہم (یعنی سب مسلمان) معزز ہوگئے۔ (2)
(4).....مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوگئے:
٭…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اِسلام لانافتح تھا۔(یعنی جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسلام قبول فرمایا گویا مسلمانوں کو ایک عظیم الشان فتح حاصل ہوگئی)۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ہجرت سراپا نصرت اور حکومت عین رحمت تھی۔ جب تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمان نہ ہوئے تھے ہمیں کعبۃ اللہ میں جا کر نماز پڑھنے کی ہمت نہ ہوتی تھی، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلام قبول کرکے کفار سے جنگ کی پس ہم نے کعبۃ اللہ میں نماز پڑھی ۔
٭…حضرت سیِّدُناصہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے پر ہی ہم کعبہ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھے اورطواف کیا ۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۲۸۳۔
2…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر بن۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۲۵، حدیث:۳۶۸۴۔
3…طبقات کبری ،اسلام عمر،ج۳، ص۲۰۴۔