Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
333 - 831
غور سے سنو! تم نے مجھے جو پناہ دی ہے وہ میں   تمہیں   واپس لوٹاتا ہوں  ۔‘‘وہ کہنے لگا: ’’بھانجے ! ایسا نہ کر۔‘‘ میں   نے کہا: ’’نہیں  ، مجھے تمہاری امان کی ضرورت نہیں  ۔‘‘ اس کے بعد کفار سے میری اکثر جھڑپیں   ہوتی رہتیں   یہاں   تک کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسلام کو عزت وطاقت عطا فرمائی ۔  (1)
ایک اہم بات:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دورِ جاہلیت میں   جب کوئی بڑا آدمی یا سردار کسی شخص کو پناہ دے دیتا تو پھر اسے کوئی کچھ نہ کہتا تھا، کہ اب اس کو کسی قسم کی تکلیف دینا اس سردار سے بغاوت کے مترادف تھا،یہی وجہ ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ان کے خالو عاص بن وائل نے پناہ دی تو تمام لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو چھوڑ کرپیچھے ہٹ گئے۔
ایمانِ فاروقِ اعظم سے تقویت اسلام
(1).....اعلانیہ عبادت کا سلسلہ شروع ہوگیا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:میرے اسلام لانے کے بعدہم (یعنی مسلمانوں  ) نے کبھی چھپ کر عبادت نہ کی اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیت مبارک نازل فرمائی : (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠) (پ۱۰، الانفال:۶۴)ترجمۂ کنزالایمان:’’اے غیب کی خبریں   بتانے والے نبی اللہ تمہیں   کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔‘‘اورقرآن میں   نازل ہونے والی یہ پہلی آیت تھی جس میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو ’’مومنین‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان دنوں   عمربن خطاب مکہ مکرمہ میں   باطل کے خلاف لڑائی کا جھنڈا گاڑے ہوئے تھا۔ کفارقریش اس سے حق بات پر لڑتے تھے، جب کہ عمربن خطاب ان سے یہی کہتا تھا کہ اگر ہم تین سو ہوجائیں   تو فیصلہ ہوجائے اوریہ مکہ کی سرداری یا ہم تمہیں   دے دیں   گے یا تم ہمیں   دے دو گے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند بزار، اسلم مولی عمر عن عمر، ج۱، ص۴۰۰،  حدیث:۲۷۹۔
2…ریاض النضرۃ ،ج۱، ص۲۸۲۔