Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
332 - 831
لاتا ہے تو اس کے ذریعے خود سے لڑنے پیٹنے والوں   کو جان لیتا ہے۔‘‘ بہرحال میں   اسلام لانے کے بعد ایک شخص کے گھر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے آواز آئی:’’ کون ؟‘‘میں   نے کہا :’’ عمربن خطاب۔‘‘یہ سنتے ہی وہ شخص باہر نکل آیا۔ میں   نے کہا:’’اَعَلِمْتَ اَنِّي قَدْ صَبَوْتُ ؟یعنی کیا تمہیں   معلوم ہے کہ میں   مسلمان ہوچکا ہوں  ؟‘‘ اس نے کہا:’’واقعی ؟‘‘ میں   نے کہا :’’ہاں   واقعی۔‘‘ وہ کہنے لگا: ’’ایسا نہ کرو۔‘‘ میں   نے کہا: ’’کیوں  ؟‘‘ وہ کہنے لگا:’’بس نہ کرو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دروازہ بند کرلیا۔ میں   نے کہا: ’’عجیب بات ہے۔‘‘ اس کے بعد میں  قریش کے ایک اوربڑے سردار کے پاس پہنچا، دروازہ کھٹکھٹایا تووہ بولا :’’کون ؟‘‘ میں  نے کہا:’’عمر بن خطاب۔‘‘ یہ سن کر وہ باہر آیا۔ میں   نے کہا: ’’اَعَلِمْتَ اَنِّي قَدْ صَبَوْتُ ؟یعنی کیا تمہیں   معلوم ہے کہ میں   مسلمان ہوچکا ہوں   ؟‘‘ اس نے کہا: ’’کیا واقعی۔‘‘ میں   نے کہا: ’’ہاں   یقیناً۔‘‘ کہنے لگا: ’’ایسا نہ کرو۔‘‘ اور ساتھ ہی اس نے دروازہ بند کرلیا۔میں   نے سوچا ضرور کوئی نہ کوئی بات ہے۔چنانچہ مجھے ایک شخص نے مشورہ دیا کہ اگر تم اپنا اسلام تمام لوگوں   تک پہنچانا چاہتے ہو تو فلاں   شخص جب حرم میں   موجود ہو اس کے پاس جانا اور اسے بتانا،وہ تمہارے اسلام کی خبر لوگوں   میں   پھیلا دے گا۔ تو میں   نے ایسے ہی کیا اورحرم میں   جاکر اس شخص کو تلاش کیا اور اپنے اسلام کا جب میں   نے اسے بتایا تو اس نے کہا: ’’واقعی مسلمان ہوگئے ہو تم؟‘‘ میں   نے کہا: ’’ہاں  ۔‘‘ تو اس نے بلند آواز سے پکارا: ’’اَلا اِنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَایعنی اے لوگو ! سنو عمر بن خطاب اپنے دین سے پھر گیا ہے۔‘‘ بس پھرکیا تھا لوگوں   نے مجھے مارنا شروع کردیا،میں  نے بھی لوگوں   کو بہت مارا۔ اتنے میں  میرا خالو عاص بن وائل وہاں   آگیا اس نے پوچھا: ’’یہ لوگ کیوں   جمع ہیں  ؟‘‘ بتایا گیا کہ عمر بن خطاب اپنے آباء کے دین سے پھر گیا ہے اور لوگ اس کے پیچھے پڑے ہیں  ۔ وہ شخص حجرۂ اسود کے قریب کھڑے ہو کر زور سے بولا: ’’اَلا اِنِّي قَدْ اَجَرْتُ ابْنَ اُخْتِي فَلا يَمَسُّهُ اَحَدٌیعنی اے لوگو! میں   نے اپنے بھانجے کو پناہ دے دی ہے اب اسے کوئی ہاتھ نہ لگائے۔‘‘ یہ سننا تھا کہ سب لوگ مجھ سے دور ہو گئے۔ تب میں   انتظا رمیں   کھڑا رہا کہ اب کوئی مجھے مارے، مگر کوئی میرے قریب نہ آیا۔ میں   نے دل میں   سوچا:’’مَا هَذَا بِشَيْءٍ اِنَّ النَّاسَ يُضْرَبُونَ وَاَنَا لاَ اُضْرَبُ وَلاَ يُقَالُ لِي شَيْءٌ یعنی یہ کیا بات ہوئی کہ دیگر مسلمانوں   کو تو راہِ خدا میں   تکالیف دی جائیں   لیکن مجھے نہ تو مارا جائے اور نہ ہی کچھ کہا جائے۔‘‘بہرحال میں   نے مزیدکچھ انتظار کیا جب لوگ اطمینان سے حرم میں   بیٹھ گئے تو میں  نے اپنے خالو سے آکر کہا: ’’اِسْمَعْ جِوَارُكَ عَلَيْكَ رَدٌّ یعنی