قبولِ اسلام کے بعد راہ خدا میں تکالیف
قبول اسلام کے بعدکفار کی طرف سے تکالیف:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب کفار قریش کے سامنے اپنے اسلام کا کھل کر اظہار فرمایا تو تمام کفار آ پ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر ٹوٹ پڑے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی خوب ڈٹ کر مقابلہ کیایہاں تک کہ سورج ڈھل گیا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہان سے مقابلہ کرتے کرتے نڈھال ہو کر بیٹھ گئے۔ کفار پھر بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو تکلیفیں پہنچا رہے تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں مخاطب کرکے ارشاد فرمایا: ’’اِفْعَلُوْا مَا بَدَاَ لَكُمْ فَوَاللہِ لَوْ كُنَّا ثَلَاثُ مِئَةَ رَجُلٍ لَقَدْ تَرَكْتُمُوْهَا لَنَا اَوْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْیعنی تم جو کرسکتے ہو کرلو، اگر ہم (یعنی مسلمان)تین سو کے قریب ہوتے تو ہمارے درمیان فیصلہ ہوجاتا۔یاتو مکہ کی سرداری ہمیں مل جاتی یا تمہارے پاس ہی رہتی۔‘‘یہی باتیں ہورہی تھیں کہ اچانک وہاں ایک شخص آگیا، جس نے ایک ریشمی حلہ اور قومسی قمیص پہنی ہوئی تھی،وہ کہنے لگا: ’’کیا بات ہے؟‘‘ اسے بتایا گیا کہ عمر بن خطاب اپنے دین سے پھر گیا ہے۔ یہ سن کر وہ کہنے لگا: ’’فَمَهْ اِمْرُؤٌ اِخْتَارَ دِيْناً لِنَفْسِهٖ اَفَتَظُنُّوْنَ اِنَّ بَنِيْ عَدِيْ تُسَلِّمُ اَيَّكُمْ صَاحِبَهُمْ ؟یعنی اسے چھوڑدو، ایک شخص نے جب نیا دین اپنے لیے پسند کرلیا ہےتو یہ اس کی مرضی ہے، تم کیا سمجھتے ہو کہ بنو عدی اپنے سرداروں کو تمہارے حوالے کردیں گے۔‘‘یہ سننا تھا کہ آناً فاناً سب کفارآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسےیوں دور ہوگئے جیسے کسی چیز سےکپڑا کھینچ لیا جائے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ بعد میں میں نے مدینہ طیبہ آکر اپنے والدگرامی سے پوچھا: ’’يَا اَبَتِ مَنِ الرَّجُلُ الَّذِيْ رَدَّ عَنْكَ الْقَوْمَ يَوْمَئِذٍ ؟یعنی اے ابّا جان ! وہ کون شخص تھا جس نے اس دن لوگوں کو آپ سے دور کیا تھا؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’بیٹے وہ (میرا خالو)عاص بن وائل تھا۔‘‘(1)
راہ خدامیں تکالیف اٹھانے کی خواہش:
حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :’’كَانَ الرَّجُلُ اِذَا اَسْلَمَ فَعَلِمَ بِهِ النَّاسُ يَضْرِبُونَهُ وَيَضْرِبُهُمْیعنی جب بھی کوئی اسلام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح ابن حبان ،ذکر وصف اسلام عمر۔۔۔الخ، الجزء:۹، ج۶، ص۱۶، حدیث:۶۸۴۰۔