Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
330 - 831
 میں   ابو جہل کے گھر پہنچا اور اس کا دروازہ کھٹکھٹا یا۔ ابوجہل باہر نکلااور مجھے دیکھا تو خوش ہوکر بولا:’’خوش آمدید بھانجے کہو کیسے آنا ہوا؟‘‘میں   نے کہا: ’’تمہیں   یہ بتانے آیا ہوں   کہ میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کلمہ پڑھ لیا ہے اور ان کا لایا ہوا پیغام تسلیم کرلیا ہے۔‘‘جیسے ہی اس نے یہ سنا تو یہ کہتے ہوئے دروازہ بند کرلیا کہ’’ اللہ بُرا کرے تیر ا اور تیرے عقیدے کا۔‘‘مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ (1)
اِظہار اِسلام کا انوکھا انداز:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب اسلام لائے تو کفار قریش کو فوری طور پر اس کا علم نہ ہوسکا۔ آپ نے سوچا اہل مکہ میں   اسلام کے خلاف کون سب سے زیادہ پروپیگنڈہ کرنے والا ہے؟ بتایا گیا: ’’جمیل بن معمر جمحی۔‘‘(2)آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کے پاس گئے۔حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں   کہ ’’میں   بھی اپنے والد گرامی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے پیچھے ہولیا اور میں   اس وقت مکمل ہوش وحواس اور فہم وشعور بھی رکھتا تھا۔‘‘جیسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس کے پاس پہنچے تو اس سے کہا:’’میں   اسلام لاچکا ہوں  ۔‘‘ اتنا سننا تھا کہ وہ مسجد حرام جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا، اور قریش کی تمام مجالس میں   جاکر بلند آواز سے یوں   پکارنے لگا: ’’سنو! عمر بن خطاب اپنے دین سے پھر گیا ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے جھڑک کرارشاد فرمایا:’’كَذَبَ وَلٰكِنِّيْ اَسْلَمْتُ وَآمَنْتُ بِاللّٰهِ وَصَدَّقْتُ رَسُوْلَهُ یعنی اے لوگو!یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان لایا ہوں  ، اور میں   نے اس کے رسو ل صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کی ہے۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…سیرۃ  ابن ھشام،ذکرقوۃ عمرفی۔۔۔الخ ،ج۱،ص۳۲۴۔
2… یہ بعد میں   فتح مکہ کے موقع پر اسلام لے آئے تھے، غزوہ حنین میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شرکت فرمائی، ان کو ’’ذُوالْقَلْبَیْن‘‘ یعنی دو دل والا کے لقب سے پکارا جاتا تھا، قرآن پاک میں   ایک جوف میں   دو دل کی ممانعت والی آیت مبارکہ انہیں   کے بارے میں   نازل ہوئی تھی۔ 
(اسد الغابۃ، جمیل بن معمر، ج۱، ص۴۳۳)
3…صحیح ابن حبان ، ذکر وصف اسلام عمر۔۔۔الخ، الجزء:۹، ج۶، ص۱۶، حدیث:۶۸۴۰ ملتقطا۔