(34) حضرت سیِّدُنا عتبة بن غزوان(35) حضرت سیِّدُنا ارقم بن ابو ارقم (36) حضرت سیِّدُنا انيس بن جنادہ غفاری (37) حضرت سیِّدُنا واقد بن عبد اللہ (38) حضرت سیِّدُنا عامر بن ربيعہ(39) حضرت سیِّدُنا سائب بن عثمان رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔‘‘ (1)
فاروقِ اعظم کی قوت ایمانی اور دجال
فاروقِ اعظم کی قوتِ ایمانی پر صحابہ کرام کا اتفاق:
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں دجال کے متعلق بتایا کرتے تھے کہ اسے ایک آدمی پر مسلط کیا جائے گااور اسے اختیا ردیا جائے گا کہ اسے مار دے یا زندہ رکھے تو دجال اس سے کہے گا کہ’’ اَلَسْتُ بِرَبِّکَ؟یعنی بتاکیا میں تیرا رب نہیں ہوں ؟‘‘ وہ شخص جواب دے گا: ’’مَا كُنْتُ فِيْ نَفْسِيْ اَكْذِبُ مِنْكَ السَّاعَةَیعنی اے دجال ! میں تجھ سے ایک لمحہ بھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔‘‘(یعنی میرا رب اللہ عَزَّ وَجَلَّہے) حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :’’فَمَا كُنَّا نَرٰى اِلَّا اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتّٰى مَاتَہم سب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہی گمان تھا کہ دجال کو جس شخص پر مسلط کردیا جائے گا وہ یقیناً سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہی ہوں گے ۔لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا گیا۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کا اظہار واعلان اسلام
کفار کے گھروں میں اعلان اسلام :
حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعض گھر والوں سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایاکہ جس رات میں ایمان لایا میں نے سوچا کہ مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟ مجھے اسے اپنے اسلام کی خبر دینی چاہیے۔میرے ذہن میں آیا کہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن تو ابو جہل ہے۔اس کے پاس چلنا چاہیے۔لہٰذا جونہی صبح ہوئی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب التاسع، ص۲۲۔
2…مسند ابی یعلی ،مسند ابی سعیدالخدری ،ج۱، ص۵۷۲، حدیث:۱۳۶۱۔