تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعا فرمائی: ’’اللَّهُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ اِلَيْكَ بِاَبِي جَهْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہے اس کے ذریعے اسلا م کو عزت عطا فرما۔‘‘تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں ۔(1)
فاروقِ اعظم مراد رسول ہیں :
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں یوں دعا فرمائی: ’’اللَّهُمَّ اَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! خصوصاًعمر بن خطاب کے ساتھ اسلام کو عزت عطا فرما۔(2)
معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ ہیں جنہیں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مانگ کر لیا ہےاور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمرادِ رسول عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔
فاروقِ اعظم کے اسلام پر آسمان والوں کی خوشی :
(1)حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے پر سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’لَقَدِ اسْتَبْشَرَ اَھْلُ السَّمَآءِ بِاِسْلَامِ عُمَرَیعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں ۔‘‘(3)
(2)حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : ’’لَقَدْ فَرِحَ اَھْلُ السَّمَاءِ بِاِسْلَامِ عُمَرَ یعنی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبولِ اسلام پر آسمان والے بھی خوش ہوگئے۔‘‘(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۸۳، حدیث:۳۷۰۱۔
2…ابن ماجہ، کتاب السنۃ، فضل عمر بن الخطاب، ج۱، ص۷۷، حدیث:۱۰۵۔
3…ابن ماجہ ،کتاب السنۃ، فضل عمر رضی اللہ عنہ، ج۱، ص۷۶، حدیث:۱۰۳۔
4…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب العاشر، ص۲۲۔