Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
326 - 831
فَقُلْتُ اَشْهَدُ اَنَّ اللّٰهَ خَالِقُنَا ...... وَاَنَّ اَحْمَدَ فِيْنَا الْيَوْمَ مُشْتَهَرُ
ترجمہ:’’تواس پر میں   بے ساختہ پکار اٹھا کہ میں   گواہی دیتاہوں   کہ ہمارا خالق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے اور حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے رسول بن کرظاہر ہوچکے ہیں  ۔‘‘
نَبِيُّ صِدْقٍ اَتٰى بِالْحَقِّ مِنْ ثِقَةٍ ...... وَافِى الْاَمَانَةِ مَا فِيْ عَوْدِهٰ خَوَرُ
ترجمہ:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےسچے نبی حق لے کر آئے ہیں   ایسی قابل اعتمادشخصیت ( حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام ) کے واسطے سے جو امانت کو درست پہنچانے والے ہیں   اوران کے بار بار آنے میں   کوئی نقصان نہیں   ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے قبول اسلام کا سبب حقیقی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام کے اسباب تو بہت سے ہیں   لیکن قبول اسلام کا سبب حقیقی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے حق میں   خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وہ دعا تھی جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے قبول اسلام کے لیے مانگی تھی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسی دعا کا ثمرہ ہیں  ۔
دعائے محمد عطائے خدا ہے … صحابہ کا سردار فاروقِ اعظم
فاروقِ اعظم نےکب اسلام قبول فرمایا؟
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام کے تین دن بعد ایمان لائے۔تاریخ کے اعتبار سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہماہ ذوالحجہ ۶ بعثت نبوی(بمطابق۶۱۷عیسوی جمعرات) کوعین جوانی کی حالت میں   مشرف بااسلام ہوئے۔(2)
فاروقِ اعظم اللہکے محبوب ہیں  :
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۴۳۔
2…طبقات کبری، عمر بن الخطاب، ج۳، ص۲۰۴۔