Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
325 - 831
قبول اسلام کے بعد فاروقِ اعظم کے اشعار:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبول اسلام کے بعد درج ذیل اشعار پڑھے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ذِي الْمَنِّ الَّذِي وَجَبَتْ ...... لَهُ عَلَيْنَا اَيَادٍ مَا لَهَا غَيْرُ
ترجمہ:’’تمام تعریفیں   اس رب عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہیں   جس کے ہم پر بہت احسانات ہیں  ، اور ہم پر وہی احسان فرمانے والا ہےاس کے سوا کوئی دوسرا نہیں   جو ہم پر احسان کرے۔‘‘
وَقَدْ بَدَاَنَا فَكَذَّبْنَا فَقَالَ لَنَا ...... صِدْقَ الْحَدِيْثِ نَبِيٌّ عِنْدَهُ الْخَبَرُ
ترجمہ:’’اس نے ہمیں   پیدا کیا لیکن ہائے افسوس!ہم اسی کو جھٹلانے لگے ، اس غیب کی خبریں   دینے والے (نبی) نے سچی باتیں   بتائیں   کہ جس کے پاس خبریں   ہیں  ۔‘‘
وَقَدْ ظَلَمْتُ ابْنَةَ الْخَطَّابِ ثُمَّ هَدىٰ ...... رَبِّيْ عَشِيَّةً قَالُوْا قَدْ صَبَا عُمَرُ
ترجمہ:’’اور آہ!میں   نے( اپنی بہن) خطاب کی بیٹی (حضرت سیدتنا فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا)پر ظلم کیا، پھر میرے پروردگار نے مجھے شام کے وقت ہدایت عطا فرمائی، اس پر کافر کہنے لگے عمر نے دین بدل لیا ۔‘‘
وَقَدْ نَدِمْتُ عَلٰى مَا كَانَ مِنْ زُلَلٍ ...... بِظُلْمِهَا حِيْنَ تُتْلٰى عِنْدَهَا السُّوَرُ
ترجمہ:’’اوریہ جو غلطی مجھ سے سرزد ہوئی میں   اس پر نادم ہوں   کہ میں   نے (اپنی بہن پر)اس وقت ظلم وزیادتی کی  جب اس کے پاس قرآن مجید کی سورتیں   تلاوت کی جارہی تھیں  ۔‘‘
لَمَّا دَعَتْ رَبَّهَا ذَا الْعَرْشِ جَاهِدَةً ...... وَالدَّمْعُ مِنْ عَيْنِهَا عَجْلَانَ يَبْتَدِرُ
ترجمہ:’’جب اس نے عرش کے مالک اپنے پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّ سے پوری کوشش سے دعا کی تو اس وقت اس کی آنکھوں   سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے۔‘‘
اَيْقَنْتُ اَنَّ الَّذِيْ تَدْعُوْهُ خَالِقُهَا ...... فَكَادَ يَسْبِقُنِيْ مِنْ عِبْرَةٍ دُرَرُ
ترجمہ:’’جسے دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ جس سے وہ دعائیں   مانگ رہی ہے وہ اس کا خالق ہے تو جلد ہی میری آنکھوں   میں   بھی موتیوں   جیسے آنسو ابھر آئے۔‘‘