Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
324 - 831
 بشارت دینے لگے کہ ’’اے ابن خطاب ! مبارک ہو حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیر کے روز یہ دعامانگی تھی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!دو مردوں   ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب میں   سے کسی ایک کے ساتھ جو تجھے زیادہ پسند ہے، اسلام کو عزت عطا فرما۔ ‘‘اور ہمیں   یقین ہے کہ آپ ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی دعا کا ثمرہ ہیں  ۔ میں   نے کہا: ’’مجھےبتاؤ کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہاں   ہیں  ؟‘‘ انہوں   نے آپ کا پتا بتا دیا۔میں   وہاں   پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایاتو آواز آئی ’’کون ؟‘‘ میں   نے کہا: ’’ابن خطاب۔‘‘ مگر کسی نے دروازہ کھولنے کی ہمت نہ کی کیونکہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ میری سخت مخالفت سب پر آشکار تھی اور میرے مسلمان ہوجانے سے یہ لوگوں   بے خبر تھے۔ حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’دروازہ کھول دو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے بہتری چاہے گا تو اسے ہدایت عطافرما دے گا۔‘‘چنانچہ انہوں   نے دروازہ کھول دیااور دو مردوں   نے مجھے پکڑ کر سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   پیش کردیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو۔‘‘ پھر آپ نے میرا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ارشاد فرمایا: ’’اے ابن خطاب! اسلام لے آئو۔‘‘پھر آپ نے میرے لیے یوں   دعا کی: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہدایت دے دے۔‘‘یہ دعا کرنا تھی کہ میں   بے ساختہ پکار اُٹھا: ’’اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّاللّٰہُ وَاَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ۔‘‘مسلمانوں   نے یہ سن کر اس زور سے نعرۂ تکبیرہ بلند کیا کہ حرمِ کعبہ تک اس کی گونج جا پہنچی۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے حق میں   رسول اللہ کی دعا:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجس دن اسلام لائے اس دن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سینے پر تین بار ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اَللّٰهُمَّ اَخْرِجْ مَا فِيْ صَدْرِهٖ مِنْ غِلٍّ وَاَبْدِلْهُ اِيْمَاناًیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! عمر کے سینے میں   جوبھی اسلام کی دشمنی ہے اسے نکال کر ایمان سے تبدیل فرمادے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسند بزار،اسلم مولی عمر عن عمر،عمر بن خطاب ،ج۱،ص۴۰۰، حدیث:۲۷۹۔
2…معجم کبیر، سالم عن ابن عمر، ج۱۲، ص۲۳۶، حدیث:۱۳۱۹۱۔