Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
323 - 831
(3) ......اسلام فاروقِ اعظم بزبان فاروقِ اعظم:
حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  روایت کرتے ہیں   کہ ایک بارامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’کیا تم لوگ پسند کرو گے کہ میں   تمہیں   اپنے اسلام لانے کا واقعہ سناؤں  ؟‘‘ہم نے کہا:’’جی ہاں  ! کیوں   نہیں  ۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’میں   حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سخت ترین مخالفین میں   سے تھا۔ ایک دن شدت کی گرمی تھی، اس گرمی میں   مکے کی گلیوں   میں   ایک شخص نے مجھے دیکھ کر کہا: ’’تم اس وقت کدھر جارہے ہو؟‘‘میں   نے کہا: ’’اس شخص کی طرف جا رہا ہوں   جو خود کو نبی سمجھتا ہے۔‘‘ وہ بڑے تعجب سے بولا: ’’اے عمر! تو اُنہیں   شہید کرے گا جب کہ ان کا دین توتمہارے گھر میں   بھی داخل ہو چکا ہے؟‘‘ میں   نے کہا: ’’کہاں   ؟‘‘ اس نے کہا: ’’تمہاری بہن کے گھر۔‘‘یہ سن کر میں   شدید غصے کی حالت میں   بہن کی طرف چلا آیا۔میں   نے دروازہ کھٹکھٹایاتواندر سے پوچھا گیا: ’’کون ؟‘‘ میں   نے کہا :’’عمر بن خطاب۔‘‘اس وقت وہ لوگ اپنے ہاتھوں   میں   لیے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ میرا نام سن کر جلدی جلدی میں   اٹھ کر چھپ گئے اورقرآنی صحیفہ وہیں   چھوڑ دیا۔ میری بہن نے دروازہ کھولا تو میں   نے کہا: ’’اے اپنی جان کی دشمن ! تم نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے یہ کہہ کر میں   نے کوئی چیز اٹھا ئی اور اس کے سر پر دے ماری جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا، وہ روتے ہوئے کہنے لگی:’’جو جی چاہے کرلو، میں   باز نہیں   آؤں   گی کیونکہ میں   اسلام لا چکی ہوں  ۔‘‘میں  ‘‘ اسی غصے کی حالت میں   کمرے میں   داخل ہوا اور چار پائی پر بیٹھ گیا، میں   نے دیکھا کہ وہاں   ایک قرآنی صحیفہ رکھا ہوا ہے۔ میں   نے کہا: ’’یہ کیا ہے؟ مجھے دو۔‘‘ بہن بولی: ’’تم اس کے اہل نہیں   ہو، کیونکہ اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں  ۔‘‘بہرحال پاکی وغیرہ کے بعد آخر کار بہن نے مجھے وہ صحیفہ دے دیا۔ میں   نے اسے کھو ل کر پڑھنا شروع کیا تو اس میں   لکھا تھا: ’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘جب میں   نے اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمپڑھا تو مجھے مزید پڑھنے کا شوق ہوا، جب میں   نے دوبارہ پڑھا تو کانپنے لگ گیایہاں   تک کہ میں   نے وہ صحیفہ رکھ دیا۔ پھر مجھے ہوش آیا تو میں   نے اسے دوبارہ اٹھاکر پھر پڑھنا شروع کردیا۔جوں   جوں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اسماء میرے سامنے سے گزرتے گئے ، مجھ پر لرزہ طاری ہوتا گیا یہاں   تک کہ میں   بے ساختہ پکار اٹھا: ’’اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّاللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللہ۔‘‘یہ سن کر گھر میں   چھپے ہوئے لوگ تکبیر کہتے ہوئے باہر نکل آئے اورمجھے