Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
322 - 831
اِجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا
دلہن بن کے نکلی دعائے محمد
اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا
بڑھی ناز سے جب دعائے محمد
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رسول اللہ کی دعا کا پس منظر:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام کے لیے جو حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمت ،حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دعا مانگی تھی اس کا پس منظر اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے والد گرامی رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے تفصیلاً بیان فرمایا ہے۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں   ہے:
’’جب کفار مکہ نے مسلمانوں   کو ستا نا شروع کیا تو بعض مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی حبشہ ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ ہجرت کے ارادے سے گھر سے نکلے، ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ مکہ مکرمہ کے ایک مشہور شخص ابن دغنہ سے ملاقات ہوگئی، وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو واپس مکہ مکرمہ لے آیا اور تمام کفار کے سامنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو امان دے دی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے گھر کے صحن میں   عبادت کرنا شروع کردی جسے کفار کے بچے وغیرہ دیکھتے اور خوش ہوتے۔ کفار کو اس سے تکلیف ہوئی اور انہوں   نے ابن دغنہ سے شکایت کی ، ابن دغنہ نے آپ سے بات کی تو فرمایا مجھے تمہاری امان کی کوئی ضرورت نہیں  ، میرے لیے رب کی امان ہی کافی ہے۔وہ اپنی امان توڑ کر چلا گیا اور رب عَزَّ وَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنی حفظ وامان میں   لے لیا اور ظالموں   کے ظلم وستم سے انہیں   محفوظ کیا۔ انہی دنوں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دعا فرمائی کہ یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ اسلام کو ابو جہل یا عمر بن خطاب کے ایمان سے قوت دے۔‘‘(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…انوار جمال مصطفےٰ،ص۱۱۴بتصرف ۔