Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
321 - 831
صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں  ۔تم وضو یا غسل کرلو پھر اسے پڑھ سکتے ہو۔آپ نے اٹھ کر وضو کیا،  اورپھر قرآن پاک کی سورۃ طہ پڑھنا شروع کردی ۔جیسے جیسے قرآن پاک پڑھتے گئے اسلام کی محبت دل میں   اترتی گئی۔کہنے لگے:’’ مجھے محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس لے چلو۔‘‘حضرت سیِّدُنا خباب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنےجو چھپے بیٹھے تھے جب یہ سنا تو باہر نکل آئے اور بولے:’’اے عمر! تمہیں   بشارت ہو مجھے یقین ہے کہ تم ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی دعا کا ثمر ہو کیونکہ جمعرات کی رات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسلسل یہی دعا فرماتے رہے ہیں   :اَللّٰھُمَّ اَعِزِّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ اَوْبِعَمْرٍوبْنِ الْھِشَامیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! دین اسلام کو عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام (ابوجہل)کے ساتھ عزت عطا فرما۔‘‘ حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان دنوں   صفا پہاڑی کے دامن میں   واقع دار ارقم کے اندر جلوہ فرما  تھے۔حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہاں   آئے تو دروازہ پر حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ ،حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  موجود تھے۔حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی آمد کا سن کر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  گھبراگئے۔حضرت سیِّدُنا امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’اگر عمر اچھی نیت سے آرہاہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی سلامتی چاہی تو بچ جائے گا، ورنہ اس کا قتل کوئی بڑی بات نہیں  ۔‘‘اس وقت صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  صحن میں   اور حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے کمرے میں   تشریف فرما تھے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باہرتشریف لائےاور سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا گریبان اور تلوار کی حمائل پکڑ کرارشاد فرمایا:’’ اے عمر! کیا تم اس وقت باز آئو گے جب ولید بن مغیرہ کی طرح اللہ عزوجل تمہاری ذلت میں   آیت نازل فرمائے گا۔‘‘پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں   دعا فرمائی: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! عمر کو راہ ِ اسلام نصیب فرما۔اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ عمر بن خطاب ہے، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔‘‘یہ سننا تھا کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبے ساختہ پکار اٹھے: ’’میں   گواہی دیتا ہوں   کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں  ۔ ‘‘اوراسلام قبول کرلیا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مستدرک حاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب استقامۃ فاطمۃ علی الاسلام، ج۵، ص۷۹، حدیث:۶۹۸۱ ملخصا۔ اتحاف الخیرۃ المھرۃ ، کتاب علامات النبوۃ ،فضائل عمر بن الخطاب، ج۹، ص۲۲۱، حدیث: ۸۸۶۵  ملخصا۔