Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
320 - 831
کریم آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں   ضرور کلمۂ شہادت کا ویسے ہی اعلان کروں   گا جیسے قبول اسلام سے قبل اپنے شرک کا اعلان کرتا رہا تھا۔‘‘(1)
(2)......فاروقِ اعظم کےاسلام لانے کا تفصیلی واقعہ :
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک بارحضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہاتھ میں   ننگی تلوار لیے باہر نکلے ، گلی سے گزر رہے تھے کہ قبیلہ بنوزہرہ کے ایک شخص سے سامنا ہوگیا، اس نے پوچھا:’’اے عمر! کہاں   کا ارادہ ہے؟‘‘ کہا:’’ میں   محمدبن عبد اللہ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو قتل کرنے جارہا ہوں  ۔‘‘ اس نے کہا:’’ اگر تم نے محمدبن عبد اللہ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کو شہید کردیا تو بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے تمہیں   کیسے امن حاصل ہوگا؟‘‘ سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا:’’ لگتا ہے تم بھی اپنا دین تبدیل کرکے مسلمان ہوگئے ہو؟‘‘ اس نے کہا:’’ اے عمر ! کیا میں   تمہیں   اس سے بھی زیادہ عجیب بات نہ بتائوں   ؟ تمہاری بہن اور تمہارے بہنوئی دونوں   تمہارا دین چھوڑکر مسلمان ہوچکے ہیں  ۔‘‘ یہ سننا تھا کہ مزید طیش میں   آگئے اور اپنے بہن وبہنوئی کے گھر کی طرف چل پڑے۔آپ کی بہن حضرت سیدتنا اُمّ جمیل فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھر میں   اس وقت حضرت سیِّدُنا خباب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی موجود تھےاور دونوں   کو قرآن مجید پڑھارہے تھے، جیسے ہی انہیں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے آنے کی خبر ہوئی تو فوراً چھپ گئے۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجیسے ہی اندر آئے توپوچھا:’’مجھے کچھ پڑھنے کی بھنبھناہٹ آرہی تھی، تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟‘‘دونوں   نے جواب دیا: ’’ہمارے مابین تو کوئی گفتگو نہیں   ہوئی۔‘‘آپ نے فرمایا:’’مجھے لگتا ہے کہ تم دونوں   اپنا دین ترک کرچکے ہو۔‘‘آپ کے بہنوئی بولے:’’ کیا حق تمہارے عقیدہ کے برخلاف نہیں   ہے؟‘‘ یہ سنتے ہی آپ اپنے بہنوئی پر پل پڑے اور انہیں   خوب مارا پیٹا۔آپ کی بہن غضب ناک ہو کر بولیں  :’’ اے عمر ! حق وہ نہیں   جو تمہارا عقیدہ ہے، اور سن لو میرا اعلان یہ ہے: اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّاللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔‘‘جب آپ پر حق واضح ہونے لگا تو پوچھا:’’ جو کتاب تم لوگ پڑھ رہے تھے میرے پاس لائو میں   بھی پڑھنا چاہتا ہوں  ۔‘‘ بہن نے کہا:’’ اسے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الاوائل، باب اول ما فعل ومن فعلہ، ج۸، ص۳۴۲، حدیث:۱۴۷۔