اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
دُرُود شریف کی فضیلت
ایک بار شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے، لیکن اس دن کوئی بھی آپ کے ساتھ نہ تھا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دیکھا تو گھبرا کر اٹھے اور پانی کا ایک مشکیزہ لے کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے روانہ ہوگئے۔ کیا دیکھتے ہیں سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک چھپر کے نیچے بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہیں ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پیچھے ہٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سجدے سے سر اٹھایا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ’’اَحْسَنْتَ يَا عُمَرُ حِیْنَ وَجَدْتَّنِیْ سَاجِداً فَتَنْحَیْتَ عَنِّیْ اِنَّ جِبْرِیْلَ اَتَانِیْ فَقَالَ مَنْ صَلّٰی عَلَیْكَ مِنْ اُمَّتِكَ وَاحِدَةۃً صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ عَشَرًا وَرَفَعَہُ بِھَا عَشَرَ دَرَجَاتٍ یعنی اے عمر! تم نے بہت اچھا کیا جو مجھے سجدے میں دیکھ کر پیچھے ہٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے، بے شک ابھی جبریل امین میرے پاس آئے اور عرض کرنے لگے کہ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کا جو بھی امتی آپ پر ایک بار درود شریف پڑھے گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا اور اس کے دس درجات بلند فرمائے گا۔‘‘ (1)
ہر درد کی دوا ہے صلِّ عَلٰی مُحَمَّد
تعویذِ ہر بلا ہے صلِّ عَلٰی مُحَمَّد
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم الاوسط، بقیۃ ذکرمن اسمہ محمد، ج۵، ص۶۸، حدیث:۶۶۰۲۔