Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
319 - 831
 دوبارہ آئی کہ :’’يَا جَلِيحُ اَمْرٌ نَجِيحٌ رَجُلٌ فَصِيحٌ يَقُولُ لَااِلَهَ اِلَّا اللّٰهُ یعنی اے شخص! کتنی اہم بات ہے کہ ایک فصیح وبلیغ شخص کہہ رہا ہے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں   ۔‘‘بعد میں   معلو م ہوا کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اسلام کی دعوت دے رہے ہیں  ۔اس واقعے سے بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا دل اسلام کی طرف راغب ہوگیا۔(1) 
قبول اسلام کے چند  واقعات
(1)......فاروقِ اعظم کے قبول اسلام کا ابتدائی واقعہ:
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اسلام لانے کی ابتداء آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں   کہ ایک رات میری ہمشیرہ دردِ زِہ میں   مبتلا ہوئیں  ۔ لہٰذا رات گزارنے کی غرض سے میں   اپنے گھر سے نکل کر کعبۃ اللہ شریف کے پردوں   کے پیچھے چلا گیا۔ میں   نے دیکھا کہ حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائےاور سیدھے حطیمِ کعبہ میں   داخل ہوگئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو اُونی کپڑے اوڑھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رب عَزَّ وَجَلَّنے جب تک چاہا نماز ادا فرمائی اور واپس تشریف لے گئے۔ اسی دوران میں   نے ایک پر اثر اور غیر مانوس کلام سنا جو اس سے قبل کبھی نہ سنا تھا۔ میں   فوراً کعبۃ اللہ شریف کے پردوں   سے نکل کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری موجودگی کو محسوس فرمایا تو پوچھا: ’’کون ہے؟‘‘میں   نے عرض کیا: ’’عمر بن خطاب۔‘‘ فرمایا: ’’يَا عُمَرُ  مَا تَدَعُنْي لَيْلاً  وَلَانَهَارًایعنی اے عمر! تم رات دن کسی وقت بھی میرا تعاقب کرنے سے باز نہیں   آتے۔‘‘ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’فَخَشِيتُ اَنْ يَدْعُوَ عَلَيَّ یعنی میں   اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے کوئی بددعا نہ دے دیں   لہٰذا میں   نے فوراً کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کلمۂ شہادت سن کر ارشاد فرمایا: ’’اُسْتُرْهُ یعنی اے عمر! اسے ابھی پوشیدہ رکھو۔‘‘ میں   نے عرض کیا: ’’وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ لَاُعْلِنَنَّهُ كَمَا اَعْلَنْتُ الشِّرْكَیعنی اے میرے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب اسلام عمر بن الخطاب، ج۲، ص۵۷۸، حدیث:۳۸۶۶ ملتقظا۔