نازل نہ ہوا تھا اور حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت بھی نہ ہوئی تھی۔‘‘
اِنَّ الَّذِیْ وَرِثَ النُّبُوَّۃَ وَالْھُدَی ...... بَعْدَ ابْنِ مَرْیَمَ مِنْ قُرَیْشٍ مُّھْتَدِیْ
ترجمہ:’’حضرت سیِّدُنا عیسٰی بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد جو نبوت اور ہدایت کا اب وارث ہے وہ قبیلہ قریش کا ہدایت دینے والا ایک شخص ہے۔‘‘
سَیَقُوْلُ مَنْ عَبَدَ الضَّمَارَ وَمِثْلَہُ ...... لَیْتَ الضَّمَارَ وَمِثْلَہُ لَمْ یُعْبَدْ
ترجمہ:’’وہ دن دور نہیں جب ضمار اور اس کی مانند دیگر بتوں کی پرستش کرنے والے کہہ اٹھیں گے کہ کاش! ضمار اور دیگر بتوں کی عبادت نہ کی جاتی۔‘‘
وَاصْبِرْ اَبَا حَفْصٍ فَاِنَّکَ آمِرٌ ...... یَّاْتِیْکَ عِزٌّ غَیْرُ عِزِّ بَنِیْ عَدِیْ
ترجمہ:’’اے ابو حفص! اپنے موجودہ اِرادے سے ہاتھ روک لے، تجھے حکومت ملے گی اور بنو عدی کی دی ہوئی موجودہ عزت کے علاوہ بھی تجھے بڑی عزت نصیب ہوگی۔‘‘
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب بت کے یہ اشعار سنے تو آپ کے تعجب میں مزید اضافہ ہوگیا اور اسلام کی محبت آپ کے دل میں اور زیادہ ہوگئی۔(1)
(5)......فاروقِ اعظم اور ایک خوفناک چیخ:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام میں معاونت کا ایک اور واقعہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خود ہی بیان فرمایا کہ ایک بار میں بت خانے میں بتوں کے قریب سویا ہوا تھا کہ ایک شخص بتوں کے چڑھاوے کے لیے ایک بچھڑا لایا اور اسے ذبح کردیا۔ اچانک ایک زوردار اور خوفناک چیخ سنائی دی لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ چیخنے والا کون ہے۔کوئی کہہ رہا تھا: ’’يَا جَلِيحُ اَمْرٌ نَجِيحٌ رَجُلٌ فَصِيحٌ يَقُولُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ یعنی اے شخص! کتنی اہم بات ہے کہ ایک فصیح وبلیغ شخص کہ رہا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یہ آواز سن کر سب لوگ بھاگ گئے۔ البتہ میں وہیں پہ موجود رہا۔ میں نے سوچا یہ کیا راز ہے میں ضرور جاننے کی کوشش کروں گا۔اچانک پھر وہی آواز
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح زرقانی علی المواھب، اسلام الفاروق، ج۲، ص۱۰۔