Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
317 - 831
قَدْ لَاحَ لِلنَّاظِرِ مِنْ تِهَامِ ...... وَ قَدْ بَدَاَ لِلنَّاظِرِ الشَّامِ
ترجمہ:’’یقیناً تہامہ اور شام کے رہنے والوں   پر یہ بات واضح ہو چکی ہے (یعنی حضرت سیِّدُنا محمد بن عبد اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہی)سچے نبی اور ساری مخلوق کے سردار ہیں  ۔‘‘
مُحَمَّدٌ ذُوالْبِرِّ وَ الْاِکْرَامِ ...... اَكْرَمَهُ الرَّحْمٰنُ مِنْ اِمَامِ
ترجمہ:’’محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذات تو اتنی مکرم ومحترم ہے کہ رحمن عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   امام کا لقب عطا فرما اکرام عطا فرمایا ہے۔‘‘
يَاْمُرُ بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ ...... قَدْ جَاءَ بَعْدَ الشِّرْکِ بِالْاِسْلَامِ
ترجمہ:’’آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نماز اور روزے کا حکم ارشاد فرماتے ہیں  ، کیونکہ آپ شرک کے مقابل اسلام کو لے کر آئے ہیں  ۔‘‘
وَيَزْجُرُ النَّاسَ عَنِ الْآثامِ ...... وَالْبِرِّ وَالصِّلَاتِ لِلْاَرْحَامِ
ترجمہ:’’آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نیکی اور صلہ رحمی کا حکم ارشاد فرماتے ہیں   اور لوگوں   کو بتوں   کی پوجا سے روکتے ہیں  ۔‘‘
ان اشعار کو سن کر حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اسلام کے ساتھ محبت میں   مزید اضافہ ہوگیا۔(1)
(4)......’’ضمار ‘‘نامی بت کا نبی کریم کی رسالت کی شہادت دینا:
جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بچھڑے اور بکری سے آگے نکلے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا گذر ’’ضمار ‘‘پر سے ہوا یہ ایک بت کا نام ہے کفار اس کی پرستش کرتے تھے آپ نے اس بت سے اشعار سنے جن میں   ایمان پر شوق دلایا گیا تھا اور سیِّد عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شہید کرنے پر ڈرایا گیا تھا۔ وہ پانچ اشعار درج ذیل ہیں  :
اَوْدَی الضَّمَارُ وَکَانَ یُعْبَدُ مُدَّۃً ...... قَبْلَ الْکِتَابِ وَقَبْلَ بَعْثِ مُحَمَّدٍ
ترجمہ:’’ضمار (بت)برباد ہوگیا حالانکہ اس کی اس وقت سے عبادت کی جارہی تھی جب کہ قرآن مجید ابھی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…شرح زرقانی علی المواھب ، اسلام الفاروق، ج۲، ص۱۰ ملتقطا۔